لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال:ایك شخص ایك اسكیم شروع كرناچاہتاہے،جس میں وہ كچھ فوائدبھی دےرہاہے،اسكیم میں شامل ہونے كی فیس پانچ ہزار روپےہے،جس كےبدلےوہ ان  لوگوں كوGrocery(گروسری:پنسارہٹ کاسامان)اورپانی دےگا،پانچ ہزارروپےسے ممبر شپ كر رہاہے،جوبھی ممبربنےگااسے دوہزارروپےكاپانی دیاجائےگا،سوروپے كی ایك بوتل ہوگی،ہرایك ممبركوبیس بوتلیں دی جائیں گی،اوراسے دواختیارہوں گے كہ وہ یہ پانی یاتو خودان جگہوں پرجاكر تقسیم كردےجہاں پہلےکمپنی کی طرف سے تقسیم کیا جاتا تھا،یا اپنی مرضی سےکسی بھی جگہ جاكرتقسیم كردے،یا اگر وہ دوہزارروپےكاپانی  تقسیم نہیں کرناچاہتاتووہ خودپی جائے۔پانچ ہزارمیں سےبا قی تین ہزار روپے ممبر شپ كےاكاؤنٹ میں ہی ركھےجائیں گے۔اور ہرممبرسےكہاجائےگا كہ آپ ہمیں ایسےہی پانچ ممبراور لاكردیں،جب وہ پانچ ممبرمزیدلاكردےگاتواسےبارہ ہزار12000روپےكا ایك پیکچ گروسری  کی صورت میں دیا جائےگا(مذکورہ شخص کاگروسری كا كام بھی ہے)اس میں دوہزار2000روپے كا پانی ہوگا،یا چارہزاركا پانی ہوگااور اسےباقی پیسوں کا گھریلو ضروریات  زندگی كاسامان دیا جائےگا،جس كاایك واؤچرہوگا۔اسی طرح جب ممبر پانچ پانچ ہزاركےپانچ ممبرلےآئےگا،توپھران میں سے بھی ہرایك  ممبرپانچ پانچ ہزاروالےمزیدممبر لےآئےگااسی طرح یہ سلسلہ چلتارہے گا۔اس میں دوچیزیں ہیں،ایك ان كا پانی جواللہ كی راہ میں مفت بھی دیاجارہاہےاوردوسرے طریقے سےوہ بكنابھی شروع ہوگیاہے۔البتہ اب تك وہ پانی مفت دیتےرہے۔ 

سوال یہ ہےكہ كیااس طرح كی اسكیم چلانا شرعا درست ہےیا نہیں؟اگردرست ہےتوكیا اس اسكیم میں شامل ہوناچاہیے؟اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں ذکرکردہ اسکیم چلانا  شرعاً ناجائز ہےکیوں کہ اکاونٹ میں جو رقم ركھی جائےگی،اس كی حیثیت قرض كی ہے،اور اکاونٹ  میں رقم  ركھووانے پر یا اس كے ذریعے پانی تقسیم كرنے پر جو فائدہ دیا جاتا ہے یہ سب  بھی قرض پر منفعت ہے،جو  سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔لہذامذكورہ بالااسكیم چلانا،یااس میں شریک ہوکرمزیدممبرلانےکی شرط پرانعام،گروسری  وغیرہ حاصل کرنا شرعاًجائز نہیں ہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنی المرهونة بإذن الراهن. (الدر المختار،۵ /۱۶۶)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلی قول الكرخي لا بأس به(حاشية ابن عابدين،۵/۱۶۶)

لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة علی أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا علی أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز، وكذلك لو باعه شيئا، ولم يكن شرط البيع في أصل العقد جاز ذلك، ولم يكن به بأس إلی هنا لفظ الكرخي في مختصره، وذلك؛ لأن القرض تمليك الشيء بمثله فإذا جر نفعا صار كأنه استزاد فيه الربا فلا يجوز؛ ولأن القرض تبرع وجر المنفعة يخرجه عن موضعه، وإنما يكره إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد(تبيين الحقائق،۶/۲۹)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4859 :

لرننگ پورٹل