لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

سوال:سرکاری ملازمین کا حکومت  پرویڈینٹ فنڈ کاٹتی ہےاورریٹائرمنٹ پر اپنی  طرف  سے پیسے ملا کر ملازم کو یکمشت دے دیے جاتے ہیں ۔

۱۔ کچھ سرکاری ادارے زبردستی تنخواہ سے فنڈ کاٹتےہیں اور منافع لگاتے ہیں۔

۲۔ کچھ سرکاری ادارے کہتے ہیں کہ فنڈ ضرور کاٹیں گے۔ملازم چاہے تو منافع لے، چاہےتو منافع نہ لے۔

۳۔ کچھ سرکاری ادارے اختیار دیتے ہیں کہ آپ فنڈ کٹوائیں یا نہ کٹوائیں۔

سوال یہ ہےكہ  کیا مندرجہ بالاتینوں طریقے رزق حلال کے طور پر درست ہیں،یا کوئی ایک درست ہے؟اس مسئلےمیں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

۱۔۲۔ پہلی اور دوسری صورت  میں جوسركاری ادارےزبردستی ملازم کی تنحوہ کاٹتےہیں اور پھرپراویڈنٹ فنڈ كےنام سےاس پر مزیدرقم دیتے ہیں،اس كا لینااوراپنے استعمال میں لاناجائزہے۔

۳۔جورقم ملازم اپنی تنحواہ سےاپنے اختیار سےکٹواتاہےتواختیاری طور پر پراویڈنٹ فنڈ میں رقم جمع کروانا درست نہیں،اگر کسی نے جمع کروائی تو اس کاحکم یہ ہےکہ وصولی ہونےپر اپنی جمع کردہ رقم کو استعمال میں لاسکتاہےاورحکومت یا ادارےکی طرف سے ملنےوالی اضافی  رقم کو صدقہ کردے۔

 والخلاصة أن الغاصب إن خلط المغصوب بماله، وملكه وحلَّ له الانتفاع بقدر حصته علی أصل أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالی. فإن باعه أو وهبه بقدر حصته، جاز للآخذ الانتفاع به. أما إذا باع أو وهب بعد استنفاد حصته من الحلال، فيدخل في الصورة الثانية التي كل المخلوط فيها مغصوب، ولا يحل له الإنتفاع به، ولا للذي يشتري أو يتهب منه حتی يؤدی البدل إلی المغصوب منه. فأما إذا لم يعلم الآخذ منه كم حصة الحلال في المخلوط، يعمل بغلبة الظن، فإن غلب علی ظنه أن قدر ما يتعامل به حلال عنده، فلا بأس بالتعامل…. فلاشك أن الورع الاجتناب إلا إذا كان الغالب فيه حلالا، ولكنه من باب الورع، لا الفتوی. والله سبحانه وتعالی أعلم. (فقه البیوع،۲/۱۰۳۷)

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنی المرهونة بإذن الراهن. (الدر المختار،۵ /۱۶۶)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلی قول الكرخي لا بأس به(حاشية ابن عابدين،۵/۱۶۶)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4880 :

لرننگ پورٹل