لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

سوال:amazonایمازون(ویب سائٹ کانام )یا دنیابھر میں خریدوفروخت کی مختلف آن لائن ویب سائٹس جیسےدراز وغیرہ  جس میں لوگ اپنی پروڈکٹ کی تشہیراوراسےنمایاں کروانے کے لیے اپنےخریداروں سے reviews(ریویوز:اچھےکلمات،یالائکس) ڈلواتے ہیں۔کیوں کہ مارکیٹ میں جس بھی پروڈکٹ پر زیادہ  reviews (ریویوز)ہوتےہیں وہ پروڈکٹ خود بخود سب سےاوپرپہلے یا دوسرے پیج پردکھائی دیتی ہے،اور یہ مارکیٹ کا ٹرینڈ بن گیاہے کہ لوگ اس پر اپنےخریداروں سے،اسی طرح دوست،یاقریبی لوگوں سےاچھےکلمات یالائکس ڈلواکر اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کرواتےہیں۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہےکہ  لائکس دینےوالا پروڈکٹ نہیں خریدتا،لیکن پھر بھی اس سےاچھےکلمات ،لائکس ڈلواتےہیں۔ نیزاس میں اختیارہوتاہے کہ کمنٹس لکھ دیےجائیں،یا لائکس اوراسٹارز ڈال دیےجائیں۔اوریہ آن لائن مارکیٹ کے ہر پلیٹ فارم پر ہوتا ہےجیسےدراز،ایمازون وغیرہ وغیرہ، یعنی جہاں بھی آن لائن خریدوفروخت کامعاملہ ہوتا ہےوہاں اس طرح لائکس وغیرہ کا بھی سلسلہ چلتارہتاہے ۔

سوال یہ ہےكہ  کیا اس طرح کسی سے اپنی پروڈکٹ کو نمایاں کروانےکےلیےreviews اچھےکلمات لکھوانا،یالائکس اوراسٹارزوغیرہ ڈلواناجائز ہے؟اس مسئلےمیں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ صورت میں اپنی پروڈکٹ کی تشہیر یااسےنمایاں کروانےکے لیےلوگوں سےاچھےکلمات لکھوانا جو واقعۃً حقیقت پر مبنی ہوں، اسی طرح لائکس،یا اسٹارز وغیرہ ڈلوانا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ پروڈکٹ  کےاشتہارمیں كوئی خلافِ شرع بات شامل نہ ہو،مثلاً جان دار کی تصاویر،یا موسیقی وغیرہ کا استعمال نہ ہو ۔ورنہ جائز نہیں ۔واضح رہےکہ یہ حکم اس وقت ہےکہ جب آن لائن  اشتہار دیکھنے پرلائکس،یا اسٹارز وغیرہ ڈلوانا بلامعاوضہ ہو۔اگراشتہاردیکھنامعاوضے(اجرت وغیرہ)کےساتھ مشروط ہوتو چوں کہ اشتہار دیکھنا شرعًا کوئی قابلِ اجرت عمل نہیں ہے،نیزبالعوض اشتہاردیکھنےمیں اس پر اچھےکلمات لکھنا،یااس کو لائک کرنا جھوٹ میں داخل ہےاس لیےاشتہار دیکھ کر پیسےکمانا ناجائز ہے،لہذا اس قسم کے کام سے اجتناب لازم ہے۔

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع علی تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه صلی الله عليه وسلم ( أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم )(البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب تغميض عينيه فی الصلاۃ)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4911 :

لرننگ پورٹل