لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

سوال:ایک مسئلےمیں الجھن کا شکار ہوں، اس کا حل درکار ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ’’دعا عبادت کا مغز ہے‘‘ کی تشریح میں پڑھا کہ حرام کھانے والوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں،جن کا تعلق بینک سے ہوتا ہے، پھر ریٹائر ہوکر اسی کی پینشن سے گھر چلتا ہے، مگر اللہ کی عبادت میں کمی نہیں کی ہوتی اور دعائیں بھی الحمدللہ قبول ہوتی ہیں۔ تو کیا یہ بینک کی کمائی حلال ہوتی ہے؟ یا دعا حرام کھاکر بھی قبول ہوجاتی ہے؟ برائے مہربانی مجھے غلط مت سمجھیے گا، صرف اپنی الجھن دور کرنا چاہ رہی ہوں۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں مذکور روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے چنانچہ صحیح مسلم میں ہے 

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَی السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّی يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ "( صحيح مسلم (2/ 703)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روا یت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا   :  اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا کیزہ ہیں  اور پا کیزہ چیز کو ہی قبو ل فرماتے ہیں اللہ تعالی نے مو منین  کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا حکم رسولوں کو  دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا: اے رسولوں پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے ایمان والوں  پا ک رزق ہم نے تمھیں عنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ  ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا  : جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے  ۔( دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے اے میرے رب اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام کا ہے اس کا پینا حرا م کا ہے اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے تو اس کی دعا کہا ں سے قبول ہو گی ۔

اس   حدیث کے بارے میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فائدہ: لوگوں کوہمیشہ سوچ رہتا ہے کہ مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں؛ لیکن حالات کااندازہ اِس حدیث شریف سے کیاجاسکتا ہے، اگرچہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ اپنے فَضل سے کبھی کافر کی بھی دعاقبول فرمالیتے ہیں، چہ جائیکہ فاسق کی؛ لیکن مُتَّقی کی دُعا اصل چیزہے؛اِسی لیے مُتَّقیوں سے دعا کی تمنَّا کی جاتی ہے۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قَبول ہوں، اُن کو بہت ضروری ہے کہ حرام مال سے احتراز کریں، اورایسا کون ہے جویہ چاہتاہے کہ میری دعا مَقبول نہ ہو؟۔ ( فضائل اعمال ، حکایات  صحابہ ، صفحہ 61)

اصل بات یہی ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول ہوں وہ اپنے حالات کا جائزہ لے اور اپنی کمائی اور کھانے پینے، پہننے اوڑھنے میں اگر کہیں کوئی حرام مال شامل ہے تو اس کو فی الفور ختم کرے تب اس کی دعائیں اور عبادات قبول ہوں گی ۔حرام کمائی اور حرام مال عبادات اور دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں باقی کبھی اللہ رب العزت اپنے فضل سے حرام کمانے والوں کی دعاؤں کو بھی قبول فرمالیتے ہیں اس سے ان کی کمائی کا حلال ہونا یا حدیث پاک کا غلط ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ اللہ رب العزت تو کافروں کی دعاؤں کو بھی قبول فرما لیتے ہیں تو جیسے کافر کی دعا قبول ہونے سے کوئی خلجان نہیں ہوتا اسی طرح حرام آمدنی والے شخص کی دعا قبول ہونے سے بھی کوئی خلجان نہیں ہونا چاہیے ۔

شرح الأربعين النووية لابن دقيق العيد (ص: 60)

"فأنی يستجاب له؟ " وفي رواية: "فأنی يستجاب لذلك؟ " يعني من أين يستجاب لمن هذه صفته، فإنه ليس أهلاً للإجابة، لكن يجوز أن يستجيب الله تعالی له تفضلا ولطفاً وكرماً والله أعلم.

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4858 :

لرننگ پورٹل