لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

ایک شخص جو واقعۃً   مستحقِ زکوۃ  ہے،لیکن وہ یہ کہہ کرزکوۃ مانگ رہاہےکہ مجھےشادی کےاخراجات پورےکرنےکےلیے زکوۃ چاہیے،جبکہ اس شخص کےبارےمیں معلوم بھی ہو کہ وہ یہ رقم شادی کی تقریبات  میں ہی خرچ کرےگا۔اورچوں کہ آج کل شادی بیاہ کی تقریبات   میں اسراف وتبذیربھی کیاجاتاہے۔لیکن وہ شخص واقعی میں مستحقِ زکوۃ بھی ہے،توکیاایسے شخص کو زکوۃ دی جاسکتی ہےیانہیں؟اس مسئلےمیں ہماری رہنمائی فرمائیں۔جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

 صورتِ مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص كی ملكیت میں نقد رقم،سونا،چاندی،مالِ تجارت اور زائد از ضرورت سامان کی اتنی مقدار نہیں جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کےبرابربنتی ہو،نیزوہ سید،ہاشمی بھی نہیں،توشرعاً ایساشخص مستحقِ زکوٰۃ   ہے،لہذا ایسےآدمی کو زکوۃ دینےسےزکوۃ ادا ہوجائےگی۔اگراسراف وتبذیرمیں خرچ کرنےکا یقین ہےتو ایسی صورت میں شادی کی ضرورت کا سامان خریدکراس کےحوالہ کردیں ۔

أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ للہ تعالی ھذا فی الشرع کذا فی التبیین(الفتاوی الھندیۃ،۱/۱۷۰)

(منھا الفقیر) وھو من لہ أدنی شیء وھو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجۃ فلا یخرجہ عن الفقیر ملک نصب کثیرۃ غیر نامیۃ إذا کانت مستغرقۃ بالحاجۃ کذا فی فتح القدیر… (ومنھا المسکین) وھو من لا شیء لہ (الفتاوی الھندیۃ،۱/۱۸۷)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4934 :

لرننگ پورٹل