لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

اگر انفرادی طور پر مسجد کے صحن میں تراویح پڑھے؟مطلب چھ فٹ کےdistance(فاصلے )کےساتھ، جبکہ آگے کی صف خالی ہو۔تو کیا تراویح کی نماز میں شمولیت ہوجائےگی؟اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

امام کی اقتداء میں جماعت سے نماز ادا کرنا اس میں ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہونا سنت مؤكده ہے۔احادیث میں مل مل کر کھڑے ہونے کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے،اس کے بر خلاف   صفوں کے درمیان فاصلہ رکھنا خلاف سنت عمل ہے۔اس لیےعام حالات میں فاصلہ رکھ کر جماعت کی صفوں میں کھڑا ہوناجائزنہیں،سخت گناہ ہے۔ لہذامذکورہ صورت میں مسجد کے صحن میں تراویح پڑھتےوقت چھ فٹ کےdistance(فاصلے )کےساتھ تراویح کی نمازپڑھناجائزنہیں۔اگرفاصلے کےساتھ تراویح کی نمازپڑھی تویہ نمازمکروہِ تحریمی ہوگی۔البتہ موجودہ حالات میں  حکومت کی جانب سے  باجماعت نماز میں  مل مل کر کھڑے ہونے کی اجازت نہ ہو، چھ فٹ کےdistance (فاصلے) کےساتھ کھڑاہونا ضروری قرار دیا جائے، تواس صورت میں باجماعت نماز میں ہرفرد کے درمیان کسی قدر فاصلے سے کھڑے ہونے کی صورت میں بھی نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔

وإما أن يتم الصلاة في الموضع الذي ركع فيه فيكون مصليا خلف الصفوف وحده وإنه مكروه؛ لقوله عليه الصلاة والسلام «لا صلاة لمنتبذ خلف الصفوف» وأدنی أحوال النفي هو نفي الكمال، ثم الصلاة منفردا خلف الصف إنما تكره إذا وجد فرجة في الصف فأما إذا لم يجد فلا تكره؛ لأن الحال حال العذر وإنها مستثناة. (بدائع الصنائع، ۱/۲۱۸)

"وينبغي للقوم إذا قاموا إلی الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف، ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك، وينبغي أن يكملوا ما يلي الإمام من الصفوف، ثم ما يلي ما يليه، وهلمّ جرًّا… وإن وجد في الصف فرجه سدّها… وفي فتح القدير: وروی أبو داود والإمام أحمد عن ابن عمر أنه قال: أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيديكم إخوانكم لاتذروا فرجات للشيطان، من وصل صفًّا وصله الله، ومن قطع صفًّا قطعه الله. وروی البزار بإسناد حسن عنه من سدّ فرجةً في الصفّ غفر له. (البحر الرائق،۱/۳۷۵)

(قوله كمسجد وبيت) فإن المسجد مكان واحد، ولذا لم يعتبر فيه الفصل بالخلاء إلا إذا كان المسجد كبيرا جدا. (رد المحتار،۱/۵۸۵)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4931 :

لرننگ پورٹل