لاگ ان
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023
لاگ ان
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023

سوال:کیا تجارت کی نیت سے خریدی گئی زمین کا نصاب 2.5 % ہے ؟   اگر زمین نقد پر لی ہے تو زکوۃ قیمت خرید پر آئے گی یا مارکیٹ ویلیو کو مد نظر رکھا جائے گا ؟  اور اگر زمین ماہانہ اقساط کے ذریعہ خریدی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جو زمین تجارت کی نیت سے خریدی گئی ہے اس کی قیمت فروخت پر زکوۃ فرض ہے ۔ زکوۃ کے حساب کا طریقہ یہ ہے کہ نصاب پر سال پورا ہونے کے دن ،اپنی ملکیت میں موجود سونا، چاندی اور تجارت کی نیت سے خریدے ہوئے مال کی قیمت فروخت لگا کر اس کے مجموعہ میں نقدی جمع کی جائے ، پھر مجموعی رقم سے ڈھائی فیصد زکوۃ نکالی جائے گی ۔

اگر زمین رہائشی ضرورت کے لیے خریدی گئی ہے تو اس پر زکوۃ لازم نہیں ۔

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. (الفتاوی الهندية (1/ 179)

 أما العقار الذي يسكنه صاحبه أو يكون مقراً لعمله كمحل للتجارة ومكان للصناعة، فلا زكاة فيه. (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (3/ 1866)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4905 :

لرننگ پورٹل