لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال:  مفتی صاحب ایک سوال کا جواب مطلوب ہے کہ ایک صاحب اپنے ذاتی مکان میں رہائش پذیر ہیں جس کی مالیت 50 لاکھ روپے ہے مگر انہیں وہاں پانی اور بجلی کی فراہمی کی معطلی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے علاقے میں جہاں یہ سہولیات موجود ہیں وہاں مکان 75 لاکھ روپے میں مل رہا ہے تو کیا وہ یہ گھر بیچ کر بقیہ جو رقم درکار ہے وہ زکوٰۃ کی مد سے لے کر دوسرا مکان لے سکتے ہیں۔ جزاکم الله۔

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح ہو کہ جس شخص کی ملکیت میں سونا ، چاندی ، مال تجارت اور نقدی کا مجموعہ یا ان میں سے ایک دو چیزیں موجود ہوں جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہو وہ شرعا نصاب کا مالک ہے اس پر زکوۃ فرض ہے اس کے لئے دوسروں سے زکوۃ لینا ناجائز اور حرام ہے ۔ 

 اس وضاحت کے بعد مذکورہ شخص کا حکم یہ ہے کہ اگر اس نے مکان فروخت کر کے دوسرا مکان زیادہ قیمت کا خرید لیا جس کی وجہ سے مقروض ہو گیا ، اب اس کے پاس قرض کی ادائیگی کا انتظام نہیں ہے تو اس کے لئے زکوۃ لینا جائز  ہوگا لیکن مذکورہ مکان بیچنے سے پہلے مہنگا مکان خریدنے کے لئے کسی سے زکوۃ لینا جائز نہیں ۔ نیز اگر مکان فروخت کردیا اس کے بعد ابھی تک دوسرا مکان نہیں خریدا اس دوران بھی زکوۃ لینا جائز نہ ہوگا ۔

لا يجوز دفع الزكاة إلی من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلی من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلی مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية.( الفتاوی الهندية (1/ 189)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4920 :

لرننگ پورٹل