لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:میرا مفتیان کرام سے سوال ہے کہ اگر شوہر بیوی کے تمام حقوق اچھی طرح ادا کررہا ہو اور اس نے کبھی بھی کسی قسم کا ظلم یا تشدد وغیرہ نہیں کیا ہو، حتی کہ کبھی گالی گلوچ تک بھی نہیں کی، نیز شوہر کسی طرح بھی طلاق یا خلع کےلئے راضی نہیں ہے۔ اس کے باوجود بیوی عدالت گئی اور وہاں شوہر پر کوئی الزام بھی لگایا، جس کو شوہر نے غلط ثابت کردیا اور شوہر عدالت میں بھی طلاق یا خلع کےلیے راضی نہیں ہوا،لیکن پھر بھی پاکستانی عدالت اس کو خلع کی ڈگری جاری کردیتی ہے۔کیا اس طرح ڈگری جاری ہونے سے دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا یا بدستور نکاح قائم رہے گا؟ نیز خلع لینے کےلئے شرعی عذر بھی بیان فرمادیں۔آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے۔جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے ۔یعنی جس طرح دیگر مالی معاملات میں جانبین کی رضا مندی ضروری ہے، اسی طرح خلع کے لئے بھی میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ہو اور کسی طرح نباہ ممکن نہ ہو تو عورت اپنے شوہر کو راضی کر کے اس سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر شوہر طلاق دینے کے لیے راضی نہ ہو تو مہر واپس کرکے یا مزید مال دے کر شوہر کو خلع کے لیے راضی کرے۔ اگر شوہر استطاعت کے باوجود حقوق پورے نہ کر رہا ہو، نان نفقہ نہ دے رہا ہو، یا مجنون ہو یا غائب ہو اور واپسی کی کوئی امید نہ ہو تو ان صورتوں میں عورت قاضی کی عدالت میں گواہوں کے ذریعہ اپنے اعذار بیان کر کے شوہر کی رضامندی کے بغیر فسخ نکاح کی ڈگری حاصل کر سکتی ہے ۔

صورت مسئولہ میں اگر عدالت میں عدم موافقت کی بنیاد پر خلع کی درخواست دائر کی گئی تھی اور عدالت نے خلع کی شرعی شرائط کا لحاظ کیے بغیر شوہر کی عدم رضا کے باوجود یکطرفہ ڈگری جاری کردی ہو تو شرعاً اس ڈگری کا اعتبار نہیں، اس کی بنیاد پر عورت کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا جائز نہیں، عورت بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے، لہذا اسی کے ساتھ زندگی گزارنا ضروری ہے۔

والخلع جائز عند السلطان وغيره لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، وهو بمنزلة الطلاق بعوض ، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق ، ولها ولاية التزام العوض (المبسوط، کتاب الطلاق،باب الخلع)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4718 :

لرننگ پورٹل