لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

سوال: ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ قرآن پاک میں تو ارشاد ہے کہ نیک مرد کے لیے نیک عورت اور برے مرد کے لیے بری عورت ۔ قرآن کا وعدہ بھی سچا ہے مگر ہمارے سامنے ایک ایسا واقعہ ہے جو اس کے برعکس ہے یعنی جو عورت ہے وہ تو ماشاءاللہ دین کے لحاظ سے بہت اچھی ہیں نماز روزوں کی بھی پابند ہیں، رمضان میں تو عبادات کثرت سے کرتی ہیں، ہم یہ سب اس لیے اتنے یقین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ہماری بہت قریبی رشتہ دار ہیں اور دنیا کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر ہیں۔ مگر جو ان کے شوہر ہیں وہ دنیا کے اعتبار سے ان پڑھ (جاہل) ہیں اور نماز بھی بالکل نہیں پڑھتے، رمضان میں روزے بس رکھ لیتے ہیں، اس کے علاوہ بد اخلاق ہیں اور جھوٹ کے بغیر تو ان کا دن ہی نہیں گزرتا ، ہر معمولی سے معمولی بات میں وہ جھوٹ بولتے ہیں، سمجھیں یہ بس ان کی عادت بن چکی ہے۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ یہاں قرآن کا وعدہ پورا تو نہیں ہورہا؟ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے اتنے برعکس کیسے ہیں؟ برائے مہربانی اس کا ہمیں تفصیلی جواب چاہیے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سورہ نور کی آیت نمبر 26 کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں جن میں سے سب سے بہتر قول یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور الخبیثات سے مراد بری باتیں مثلا جھوٹ ، بہتان ، تہمت وغیرہ ہیں جو کہ برے لوگوں کے ہی لائق ہیں یعنی جو خود برا ہوگا وہ بری بات ہی منہ سے نکالے گا کیونکہ یہ آیت واقعہ افک کے بعد آئی ہے جب منافقوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تو اس آیت کے واقعہ افک کےبعد آنے میں یہی ربط ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ بری باتیں مثلا تہمت لگانا برے لوگوں کا ہی کام ہے اور اچھی باتیں یعنی اس تہمت کا انکار کرنا یہ نیک لوگوں کا کام ہے ۔

البتہ اس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ بری عورتیں برے مردوں کے لئے اور برے مرد بری عورتوں کے لئے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ بری عورتوں کا میلان برے مردوں کی طرف اور برے مردوں کا قلبی میلان بری عورتوں کی طرف ہوتا ہے تاکہ یہ دونوں اپنی اپنی برائیوں کو نکاح کے بعد بھی جاری رکھ سکیں یعنی برے مرد کو نکاح سے کوئی غرض نہیں ہوتی لیکن اس کو مجبورا نکاح کرنا پڑے تو وہ کر لیتا ہے لیکن مقصد صرف اپنی خواہش کا پورا کرنا ہوتا ہے جیسا کہ ایک اور آیت میں اس کو بیان فرمایاالزانی لا ینکح الا زاننیۃ او مشرکۃ والزانیۃ لا ینکحها زان او مشرک ۔

البتہ اس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ بری عورتیں برے مردوں کے لئے اور برے مرد بری عورتوں کے لئے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ بری عورتوں کا میلان برے مردوں کی طرف اور برے مردوں کا قلبی میلان بری عورتوں کی طرف ہوتا ہے تاکہ یہ دونوں اپنی اپنی برائیوں کو نکاح کے بعد بھی جاری رکھ سکیں یعنی برے مرد کو نکاح سے کوئی غرض نہیں ہوتی لیکن اس کو مجبورا نکاح کرنا پڑے تو وہ کر لیتا ہے لیکن مقصد صرف اپنی خواہش کا پورا کرنا ہوتا ہے جیسا کہ ایک اور آیت میں اس کو بیان فرمایاالزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ والزانیۃ لا ینکحها زان او مشرک ۔

الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات أولئك مبرؤن مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم (26)

اعلم أن الخبيثات يقع على الكلمات التي هي القذف الواقع من أهل الإفك، ويقع أيضا على الكلام الذي هو كالذم واللعن، ويكون المراد من ذلك لا نفس الكلمة التي هي من قبل الله تعالى، بل المراد مضمون الكلمة، ويقع أيضا على الزواني من النساء، وفي هذه الآية كل هذه الوجوه محتملة، فإن حملناها على القذف الواقع من أهل الإفك كان المعنى الخبيثات من قول أهل الإفك للخبيثين من الرجال، وبالعكس والطيبات من قول منكري الإفك للطيبين من الرجال وبالعكس، وإن حلمناها على الكلام الذي هو كالذم واللعن، فالمعنى أن الذم واللعن معدان للخبيثين من الرجال، والخبيثون منهم معرضون للعن والذم، وكذا القول في الطيبات وأولئك إشارة إلى الطيبين وأنهم مبرءون مما يقول الخبيثون من خبيثات الكلمات، وإن حملناه حملناه على الزواني فالمعنى الخبيثات من النساء للخبيثين من الرجال وبالعكس، على معنى قوله تعالى: / الزاني لا ينكح إلا زانية [النور: 3] والطيبات من النساء للطيبين من الرجال، والمعنى أن مثل ذلك الرمي الواقع من المنافقين لا يليق إلا بالخبيثات والخبيثين لا بالطيبات والطيبين، كالرسول صلى الله عليه وسلم وأزواجه. (تفسير الرازي/ مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير، 23/ 355)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4710 :

لرننگ پورٹل