لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

سوال:كچھ اذكاراوردعائیں پڑھ كر دم كی جاتی ہیں،اوركچھ دعائیں ہاتھ ركھ كر،یا ہاتھ پھیر كر دم كی جاتی ہیں،مثلاجسم كے كسی حصے میں تكلیف ہو،تو وہاں ہاتھ ركھ كر دم كردیا جاتاہے۔تو كیا اگر شرم گاہ میں كوئی بیماری یا تكلیف ہوتو كیاان طریقوں میں سے كسی طریقےپر دم كیا جاسكتاہے؟كیا اس طرح كرنا درست ہے؟جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی بھی جا ئز مقصد کے لیے قرآن کریم کی آیات اور احادیث سے منقول دعاؤں اور متبرک کلمات کے ذریعے دم،جھاڑ پھونک اور تعویذات کر نا شرعاً چند شرائط کے ساتھ جا ئز ہے۔

۱۔ تعویذ قرآنی آیات ، احادیثِ مبارکہ کی دعاؤں یاایسے کلمات پر مشتمل ہوں جن کے معانی سمجھ میں آسکتے ہوں اور ان کا مفہوم شریعت کے مطابق ہو ۔

۲۔یہ عربی زبان میں ہوں،نیز ایسے کلمات پڑ ھے یا لکھے نہ جا ئیں جو غلط عقائد پر دلالت کرتے ہیں۔

۳۔ان کے ذریعے کسی کو تکلیف دینا مقصود نہ ہو ۔

۴۔ان کو مؤ ثر حقیقی نہ سمجھا جا ئے بلکہ مؤثر حقیقی صرف اللہ کی ذات کو سمجھا جا ئے ان شرا ئط کا لحا ظ رکھتے ہوئے کسی بھی جائز مقصد کے لیے جھاڑ پھو نک اور تعویذ کرنا جا ئز ہے ۔

آدمی مسنون دعائیں پڑھ کر جسم پر پھونک مارے،یااپنے ہاتھوں پر پھونک کر ہاتھوں کو جسم پر مل لے،یہ سب جائز ہے۔ایك روایت میں آتاہےكہ حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا جب سے وہ مسلمان ہوئےہیں،تو ان كو اپنے بدن میں دردمحسوس ہوتاہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اورتین بار بسم الله کہو ، اس کے بعد سات بارأعوذ بالله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر کہو، یعنی میں اللہ تعالی كی پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جس كو میں پاتا ہوں،اور آئندہ ہونے والے خطرے سےاللہ كی پناہ مانگتاہوں ۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں كسی شخص كوجسم میں كسی بھی جگہ،مثلا كمر،پیٹ،ران،یاشرم گاہ وغیرہ میں كوئی بیماری،یا تكلیف ہوتو دعائیں یااذكار وغیرہ پڑھ كراس درد كی جگہ پر دم كیا جاسكتاہے۔بشرطیكہ شرم گاہ پر از خود دم كرےكسی دوسرےكی شرم گاہ پر ہاتھ ركھ كردم كرنا ،یا اپنی شرم گاہ پر كسی دوسرے سے دم كرواناجائز نہیں۔

ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن أو أسماء الله تعالی ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا وإنما تكره العوذة إذا كانت لغير لسان العرب ولا يدري ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به) حاشية ابن عابدين (۶/۳۶۳)

وقد أجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثة شروط : أن يكون بكلام الله تعالی أو بأسمائه وصفاته ، وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره ، وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالی. واختلفوا في كونها شرطا ، والراجح أنه لا بد من اعتبار الشروط المذكورة.( فتح الباري،۱۰/۱۹۵)

عن عثمان بن أبي العاص الثقفي، أنه شكا إلی رسول الله صلی الله عليه وسلم وجعا يجده في جسده منذ أسلم فقال له رسول الله صلی الله عليه وسلم: ضع يدك علی الذي تألم من جسدك، وقل باسم الله ثلاثا، وقل سبع مرات أعوذ بالله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر ( صحيح مسلم،۴/ ۱۷۲۸)

عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا مرض أحد من أهله نفث عليه بالمعوذات، فلما مرض مرضه الذي مات فيه، جعلت أنفث عليه وأمسحه بيد نفسه؛ لأنها كانت أعظم بركة من يدي وفي رواية يحيی بن أيوب: بمعوذات.(صحيح مسلم،١٤/٤٠٣)

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلی الله عليه وسلم، كان ينفث علی نفسه في المرض الذي مات فيه بالمعوذات، فلما ثقل كنت أنفث عنه بهن، وأمسح بيد نفسه لبركتها.فسألت الزهري: كيف ينفث؟ قال: كان ينفث علی يديه ثم يمسح بهما وجهه.(عمدة القاري شرح صحيح البخاري۲،۱/۲۶۲)

والحديث الآخر من علق تميمة فلا أتم الله له لأنهم يعتقدون أنه تمام الدواء والشفاء، بل جعلوها شركاء لأنهم أرادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم وطلبوا دفع الأذی من غير الله تعالی الذي هو دافعه اهـ ط وفي المجتبی: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ علی المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقی. وعن النبي -صلی الله عليه وسلم- أنه كان يعوذ نفسه قال -رضي الله عنه-: وعلی الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار(حاشية ابن عابدين،۶/۳۶۴)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4705 :

لرننگ پورٹل