لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال: وضو، اذان، تشہد اور بیس رکعات تراویح کا ثبوت قرآن وحدیث سے مطلوب ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

وضو کا ثبوت: وضو کا ثبوت قرآن کریم سے ہے، چنانچہ اہل ایمان کو حکمِ خداوندی ہے: 

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: 6] 

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کےلیے اٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھولو، اور اپنے سر کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو)۔  

اذان کا ثبوت: اذان کے کلمات حدیث سے ثابت ہیں۔ سنن ابن ماجہ میں روایت ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان کے کلمات سکھائے جانے کا ذکر ہے ، اور یہ بات بھی مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زید نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات سکھائے۔ 

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ، وَأَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ، فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي الْمَنَامِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، تَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: أُنَادِي بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْخَبَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ أري رُؤْيَا، فَاخْرُجْ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ، وَلْيُنَادِ بِلَالٌ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ. (سنن ابن ماجة، ابواب الاذان والسنة فيها، باب بدء الاذان)

تشہد کا ثبوت: تشہد جسے التحیات بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سنن ترمذی کی روایت میں بیان فرماتے ہیں:  

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَنْ نَقُولَ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. (سنن الترمذي، ابوب الصلاة، باب ماجاء في التشهد)

ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے آخر میں  قعدہ میں بیٹھیں تو (تشہد) پڑھیں، (جس کے الفاظ یہ ہیں:)  التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. 

بیس رکعات تراویح کا ثبوت: بیس رکعات تراویح کا ثبوت بھی حدیث نبوی اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے: 

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ. (مصنف ابن ابی شیبة،کتاب الصلاة،من كان يرى القيام في رمضان) 

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ 

 عن أبي بن كعب أن عمر بن الخطاب أمره أن يصلي بالليل في رمضان فقال: إن الناس يصومون النهار ولا يحسنون أن يقرأوا فلو قرأت عليهم بالليل، فقال: يا أمير المؤمنين هذا شيء لم يكن، فقال: قد علمت ولكنه حسن فصلى بهم عشرين ركعة. (کنز العمال ، باب صلوٰة التراویح) 

ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ رمضان میں رات کو لو گوں کو نماز پڑھایا کریں ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ تو رکھتے ہیں لیکن اچھی طرح قراء ت نہیں کرسکتے، اگر آپ رات کو انہیں قرآن سنائیں تو اچھا ہوگا ، حضرت ابی بن کعب  نے فرمایا کہ امیر المؤمنین پہلے تو ایسا نہیں ہوا ، آپ نے جواب دیا: مجھے بھی معلوم ہے،لیکن یہ ایک اچھا عمل ہے، چنانچہ حضرت ابی بن کعب  رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات پڑھائیں۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4833 :

لرننگ پورٹل