لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال:آئندہ چند دنوں میں کرونا وائرس ویکسین پاکستان میں دستیاب ہوجائے گی، اس حوالے سے چند تحفظات ہیں۔ اس ویکسین میں DNA کے اجزاء شامل کیے گئے ہیں۔ اس ویکسین کے استعمال میں ایک تو غیر اخلاقی پہلو شامل ہے، دوسرا یہ انسانی DNA میں تبدیلی کا بھی باعث ہوگا۔ کیا اس کا استعمال حلال ہے؟ اس سے متعلق معلومات مختلف قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

کورونا یا اس جیسی دیگر بیماریوں کی ویکسینز کے سلسلے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کردے کہ یہ مضر صحت نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز شامل کی گئی ہے، تو ان کا استعمال جائز ہے۔ لہذا اس سلسلے میں دین دار ماہر ڈاکٹروں کی تحقیقات کی طرف رجوع کیا جائے۔ اگر وہ مذکورہ باتوں کی تصدیق کریں تو شرعاً استعمال کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں۔ نیز چوں کہ یہ مستقبل کی ایک موہوم بیماری کے سد باب کے لیے ہے، اس لیے کسی کو اس کے استعمال پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4703 :

لرننگ پورٹل