لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اور مستحق زکوٰۃ بھی ہوں۔ کمپنی کا مالک ہمیں تنخواہیں بھی دیتا ہو اور اپنی زکوٰۃ کی رقم بھی علیحدہ دیتا ہے، جو کہ تنخواہ کے علاوہ ہے، لیکن ہماری تنخواہ سال پورے ہونے پر بڑھاتا نہیں ہے اور جب ہم تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو آگے سے کہتے ہیں کہ میں تمہیں زکوٰۃ بھی تو دیتا ہوں تو اب تنخواہ بڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا شرعاً ایسا کرنا ٹھیک ہے کہ زکوٰۃ کی رقم دینے کی وجہ سے تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

یاد رہے کہ زکوٰۃ کسی عمل کے معاوضے کے طور پر دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ لہذا کمپنی کے مالک پر لازم ہے کہ اگر اپنے مستحقین زکوٰۃ ملازمین کی مدد زکوٰۃ کی رقم سے کرنا چاہے تو اس کے حساب کو کمپنی کی تنخواہ سے بالکل جدا رکھے۔ اس کے بعد تنخواہ بڑھانے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر کمپنی کے قانون اور معاہدے میں یہ بات شامل ہو کہ سال پورا ہونے پر ملازم کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے گا تو اس صورت میں صرف زکوۃ دے کر تنخواہ نہ بڑھانا ملازم کے ساتھ زیادتی ہے اور اس میں معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اس لئے کمپنی کے مالک پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے تحت ملازم کی تنخواہ میں سالانہ اضافہ کرے ۔ لیکن اگر معاہدے میں یہ بات شامل نہ ہو تو پھر سالانہ تنخواہ بڑھانا مالک پر لازم نہیں۔ البتہ دونوں صورتوں میں ملازم کے مستحق ہونے کی بنا پر اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ جاری رکھنا چاہیے۔

ثُمَّ رَوَى ابْنُ مَرْدَوَيْهِ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، وَالنَّسَائِيِّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى"(تفسير ابن كثير ت سلامة، 1/ 694)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4699 :

لرننگ پورٹل