لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

سوال: میرا تعلق ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کی جماعت سے ہے اور یہ لوگ احمد بن حنبل ؒ کو کافر کہتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ احمدبن حنبل ؒ صاحب قبر میں روح لوٹائے جانے کے قائل ہیں اور ایسا عقیدہ قرآن کی آیات کا انکار ہے ۔برائے مہربانی مجھے اس بارے میں جواب ضرور دیے گا ۔پہلے تو اس عقیدے کے بارے میں تھوڑا بتادیں ۔دوسرے یہ کہ کسی ایک آیت کا جان کر انکار یا غلطی سے انکار ہوجائے تو اس بنیاد پر وہ شخص کافر ہوجائے گا اورقرآن کی ساری آیات جو خاص طور پر کفار مکہ ،یہودی وغیرہ کے لیے ہیں وہ ساری آیات کیا اس شخص پر اور احمد بن حنبل ؒ یا ان کے ماننے والوں پر فٹ ہوں گی۔

الجواب باسم ملهم الصواب

قبر میں روح لوٹائے جانے کا عقیدہ قرآن وسنت کے خلاف نہیں بلکہ قرآن وسنت کے موافق ہے ۔النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا (غافر:46) ترجمہ :آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔

اس آیت سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے او رعذاب قبر اگرچہ اصلا ً روح کو ہوتا ہے لیکن اس کا اثر قبر میں موجود جسم کو بھی ہوتا ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے : وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُمِنْ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ(بخاری، کتاب الوضؤ، باب ما جاء في غسل البول) ترجمہ:ان دونوں پر کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ایک تو ان میں سے پیشاب سے نہ بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔

باقی احادیث مبارکہ میں صراحۃً قبر میں روح لوٹائے جانے کا ذکر ہے ۔

اسی مضمون کی ایک روایت مسند احمد  میں بھی ہے ۔ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَی الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَكَأَنَّ عَلَی رُءُوسِنَا الطَّيْرَ وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنْ السَّمَاءِ۔۔۔ قَالَ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ ۔۔۔الخ(مسند احمد،مسند الکوفیین، حديث البراء بن عازب)ترجمہ :حضرت براءبن عازبؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ انصاری صحابی ؓکے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم ﷺ بیٹھ گئے ہم بھی آپ ﷺ کے ارد گرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم ﷺ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس آسمان سے ایک فرشتہ آتا ہے۔۔۔ فرمایا پس اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے تو وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔

عن جابر بن عبد الله قال سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول إن إبن آدم لفي غفلة عما خلق له إِن الله إِذا أَرَادَ خلقه قَالَ للْملك أكتب رزقه أكتب أَثَره أكتب أَجله أكتب شقيا أم سعيدا ثمَّ يرْتَفع ذَلِك الْملك وَيبْعَث الله ملكا فيحفظه حَتَّی يدْرك ثمَّ يرْتَفع ذَلِك الْملك ثمَّ يُوكل الله بِهِ ملكَيْنِ يكتبان حَسَنَاته وسيئاته فَإِذا حَضَره الْمَوْت إرتفع ذَلِك الْملكَانِ وَجَاء ملك الْمَوْت ليقْبض روحه فإذا دخل قبره ردت الروح إلی جسده وجاءه ملكا الْقَبْر فامتحناه (شرح الصدورللسیوطی،ص123،الناشر دار المعرفة،سنة النشر 1417هـ – 1996م،مكان النشر لبنان)

ترجمہ:حضرت جابر ؓ سے مروی ہےکہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا بے شک ابن آدم غافل ہے اس چیز سے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ جب اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو ایک فرشتے سے یہ فرماتے ہیں اس کا رزق  لکھ دو ،اس کی عمر لکھ دو،اس کی موت  کا وقت لکھ دو اس کی شقاوت وسعادت لکھ دو ۔پھر وہ فرشتہ چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک اور فرشتہ بھیج دیتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے  یہاں تک کہ وہ صحیح سالم دنیا میں آجائے ۔پھر یہ فرشتہ چلا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ دو فرشتے اس پر مقرر کرتے ہیں جو اس کی نیکیاں اور گناہ لکھتے ہیں اور جب موت آتی ہے تو یہ دونوں فرشتے چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آتے ہیں تاکہ اس کی روح قبض کر لیں پس جب وہ داخل ہوتا ہے قبر میں تو اس کی روح اس کے جسم میں لوٹادی جاتی ہے ۔قبر کے دو فرشتے آتے ہیں اور اس کا امتحان لیتے ہیں ۔

باقی جس جماعت کا آپ نے ذکر فرمایا اس جماعت کا بنیادی کام ہی تکفیر ہے یعنی اپنی جماعت کے علاوہ تمام لوگوں کو اہل سنت والجماعت کے تمام گروہوں کو کافر کہنا اس لیے اس جماعت سے وابستگی ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔اس جماعت کے متعلق قرآن اکیڈمی یٰسین آباد اور اکابرین امت کے فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں :

اس پر فتن دور میں  آئے دن بے شمار نئے نئے فرقے اور گروہ مذہب کے نام پر سامنے آرہے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے چند مخصوص اور شاذ نظریات وعقائد سنبھال رکھے ہیں۔جو شخص ان کے نظریات سے متفق ہواور ان کے ساتھ تعاون کرتا ہو، ان کے نزدیک وہ مومن اور اہل ایمان میں سے ہے ،اور جو ان کے عقائد ونظریات کا مخالف ہو اس پر وہ بلا سوچے سمجھے شرائط وموانع کا خیال رکھے بغیر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ شرائط افتاء سے عاری ہوتے ہیں اور اس فتویٰ بازی یا کسی مسلمان کی تکفیر میں ذرا خیال نہیں رکھتے کہ وہ کوئی محترم شخصیت اور مخلص مسلمان کی ذات بھی ہو سکتی ہے۔اسی طرز عمل کے گروہوں میں سے ایک کراچی کا معروف عثمانی گروہ ہے ،جو اپنے آپ کو کیپٹن مسعود الدین عثمانی کی طرف منسوب کرتاہے۔اس گروہ نے بھی بعض ایسے منفر د اور شاذ عقائد ونظریات اختیار کر رکھے ہیں ،جو امت کے اجماعی اور اتفاقی مسائل کے مخالف ہیں۔یہ فرقہ نہ صرف محدثین بلکہ ائمہ اربعہ کو بھی مشرک اور گمراہ سمجھتا ہے۔اس لیے اس فرقہ سے بچ کر رہنا چاہیے جو کہ اسلاف کے بارے میں انتہائی سوئے ظن میں مبتلاء ہے۔البتہ معاصر افراد، اشخاص، اداروں و جماعتوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا ایک حساس اور مشکل مسئلہ ہے، لہٰذا ذیل میں چند اہم اور معاصر مفتیان کرام و دارالافتاء کے حوالے درج کئے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کے افکار و عقائدکے حوالے سے جامعہ بنوریہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیے:

’’اس گروہ کے نزدیک جو مسلمان ڈاکٹر مسعود الدین کا پیروکار نہ بنے و ہ غیر مسلم ہے، نہ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں، نہ اس سے رشتہ کرتے ہیں۔ موصوف نے اپنی کتاب منہاج المسلمین میں لکھا ہے کہ ’’ثابت ہوا کہ امام،اللہ جل جلالہ بناتا ہے۔ لوگوں کا خود کسی کو منتخب کرکے امام بنالینا اور اسی کی رائے اور فتویٰ پر چلتے رہنا اللہ کے ساتھ شرک ہے۔‘‘ یہ لوگ علمائے حق اور دیگر اہل اسلام کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں، اللہ اور رسولﷺ کے نافرمان، اسلام اور اہل اسلام کے دشمن اور بدخواہ ہیں، اجماع امت کو دلیل شرعی نہیں مانتے، مجتھدین کو شریعت ساز کہتے ہیں۔ ان کے بارے میں ہمارے اور پورے پاکستان کے تمام اہل فتوٰٰی علماء دیوبند و بریلوی اور دیگر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ یہ گروہ غلو میں مبتلاء ہونے کی وجہ سے گمراہ ہے اور نہ صرف یہ کہ وہ خود اہل سنت والجماعت سے خارج ہے بلکہ ان اصول کے انکار کی وجہ سے وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہوچکا ہے۔ اور دیگر سادہ لوح عوام کو بھی عذاب خداوندی میں دھکیل رہا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے ساتھ باہم مجالست رکھنے، ان کے  ساتھ بحث و مباحثہ میں پڑنے اور ان کے ساتھ اختلاط کرنے سے بھی احتراز لازم ہے۔‘‘(حمید الرحمان، دارالافتاء جامعہ بنوریہ)

فتاوی حقانیہ میں اس گروہ کے عقائد پر تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:

’’ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی بانی جماعتِ حزب اللہ سوال میں مذکور عقائد کے علاوہ بھی بہت سارے خلاف شرع عقائد کا قائل اور داعی ہے، امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پیدا کرنے والا شخص ہے۔ اس کے شائع شدہ رسائل میں امت مسلمہ کے متفقہ اور اجماعی عقائد سے فرار اور ایک نئے دین کی بنیاد رکھنا پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شخص مسلمانوں کی تکفیر میں بھی از حد جلد باز ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے مشائخ اور محدثین کرام کو بھی معاف نہیں کرتا۔ اس لیے ڈاکٹر عثمانی اور اس کے متبعین ضال(گمراہ)اور مضل(گمراہ کرنے والے) ہیں۔ ان کے ساتھ رشتہ ناطہ کے علاوہ بھی کسی قسم کا تعلق نہ رکھا جائے اور ان لوگوں کی صحبت سے اجتناب کیا جائے۔‘‘(فتاویٰ حقانیہ، جلد اول، باب الفرق الاسلامیۃ وغیرھا)۔

مولانا یوسف لدھیانویؒ ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘میں اس گروہ کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

’’ڈاکٹر عثمانی صاحب ہمارے ہی دارالعلوم کے پڑھے ہوئے ہیں، مگر ان کو یہ خیال ہوگیا ہے کہ محمدﷺ کے لائے ہوئے دین کو پہلی بار انھوں نے سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑے بڑے اکابر امت کو جن کے ذریعے علوم نبوت ہم تک پہنچے ہیں، گمراہ سمجھتے ہیں۔ اور میں ایسے خیال سے اللہ کی سو بار پناہ مانگتاہوں۔ کسی جزوی مسئلے میں اونچ نیچ ہوجانا قابل برداشت ہے، لیکن یہ قابل برداشت نہیں کہ کوئی شخص ’’توحید خالص‘‘کے نام پر پوری امت کا صفایا کرڈالے۔‘‘(آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد اول، غلط عقائد رکھنے والے فرقے)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل