لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال نمبر 1:ایک مرد اور عورت پر شرعی پردہ کب فرض ہوتا ہے ؟

سوال نمبر 2:مرد وعورت کاشرعی پردہ کیا ہوگا(محرم نا محرم کی تمیز)

سوال نمبر3:اگر ایک ہی خاندان میں ساری شادیاں ہوگئی ہوں پھر محرم نا محرم میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے مثلا ًعورت کا بہنوئی اور جیٹھ ایک ہی ہو تو ان کے اور ان کی اولاد کے سامنے میں محرم نا محرم کی تمیز کس طرح ہوگی۔اسی طرح دیور اور ان کے بیٹے وغیرہ۔ ایک عورت کے لئے شوہر کی طرف سے ایک محرم اور نا محرم کی تمیز ؟

سوال نمبر4:کیا کسی نامحرم عورت کو سلام کیا جاسکتا ہے ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جواب نمبر1:دس سال کی عمر ہونے پر بچوں کے بستر الگ کردینے کا حکم ہے ۔یہ بھی یاد رہے کہ قریب البلوغ لڑکی کا حکم جوان ہی کا ہے ۔بغیر پردے کے نا محرم کے سامنے جانا موجب فتنہ کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔

العبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتی وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته(رد المحتار،کتاب النکاح،فروع طلق امرأته تطليقتين)

جواب نمبر2:عورتوں کے لئے اصل کام تو یہ ہے کہ بغیر ضرورت کے گھر سے باہر قدم نہ رکھیں ۔سورۃ الاحزاب میں ہے: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَی(33) ترجمہ :’’اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں اور دورِ جاہلیت کی طرح بن سنور کے نہ نکلو ۔‘‘

مراد اس سے یہ ہے کہ محض کپڑا اوڑھ کر پردہ کر لینے پر کفایت مت کرو بلکہ اس طریقہ سے کرو کہ بدن اور لباس نظر نہ آئے ۔البتہ ضرورت کے موقعوں پر گھر سے نکلنے کی چند شرائط کی پابندی کے ساتھ اجازت ہے جو درج ذیل ہے:

1۔نکلتے وقت خوشبو نہ لگائیں ۔ 2۔زینت کا لباس نہ پہنیں۔3۔زمین پر اس طرح پاؤں نہ ماریں کہ ان خفیہ زیورات کی آواز کسی کے کان میں پڑے ۔4۔ایسا زیور پہن کر نہ نکلیں جس میں آواز ہو۔5۔اپنی چال میں اترانے کا انداز اختیار نہ کریں ۔6۔راستے کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ کناروں پر چلیں ۔7۔نکلتے وقت بڑی چادر یا برقع پہن لیں جس سے سر سے پاؤں تک پورا بدن ڈھک جائے صرف آنکھ کھلی رہے۔8۔شوہر کی اجازت کے بغیر کسی سے بات نہ کریں ۔9۔کسی اجنبی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ان کے لب ولہجہ میں نرمی اور نزاکت نہیں ہونی چاہیے ۔10۔اپنی نظر یں پست رکھیں حتی الوسع نامحرم پر انکی نظر نہیں پڑنی چاہیے ۔ 11۔مردوں کے مجمع میں نہ داخل ہوں ۔

في هذه الآية دلالة علی ان المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبيين وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا يطمع أهل الريب فيهن(احکام القرآن للجصاص،ص 245،الناشر : دار إحياء التراث العربي – بيروت ، 1405)

والجلابيب جمع جلباب وهو علی ما روی عن إبن عباس الذي يستر من فوق إلی أسفل(روح المعانی،سورۃ الاحزاب)

فالمرأۃ کلما کانت مخفیۃ من الرجال کان دینھا اسلم(مجالس الابرار،ص 563)

( ويكره حضورهن الجماعة ) ولو لجمعة وعيد ووعظ ( مطلقا ) ولو عجوزا ليلا ( علی المذهب ) المفتی به لفساد الزمان(رد المحتار،کتاب الصلاۃ ،باب الإمامة)

ألا تخرج المرأة من بيتها إلا لحاجة لا تجد منها بدا . قال صلی الله عليه وسلم : المرأة عورة(حجۃ اللہ البالغۃ،ص 686،الناشر دار الكتب الحديثة – مكتبة المثنی،مكان النشر القاهرة بغداد)

ويلحق بالطيب ما في معناه لأن سبب المنع منه ما فيه من تحريك داعية الشهوة كحسن الملبس والحلي الذي يظهر والزينة الفاخرة وكذا الاختلاط بالرجال(فتح الباری لابن حجر،ص 349،الناشر : دار المعرفة – بيروت ، 1379)

رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا تری البشرة منه(رد المحتار،کتاب الحظر،فصل فی النظر والمس)

وحيث أبحنا لها الخروج فإنما يباح بشرط عدم الزينة وتغيير الهيئة إلی ما لا يكون داعية إلی نظر الرجال والاستمالة(فتح القدیر،کتاب الطلاق،فصل وعلی الزوج أن يسكنها)

سورۂ احزاب میں ہے:يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا(32)ترجمہ :اے نبیﷺکی بیویوں! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو  اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے  اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا (53) ترجمہ :اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی ﷺکے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو نبیﷺکو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ۔ جب تم نبیﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو ۔تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے کامل پاکیزگی یہی ہے اور تمہارے لئے یہ جائز نہیں  ہے کہ تم رسول اللہﷺ کو تکلیف دو  اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپﷺ کی بیویوں سے نکاح کرو ۔یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَی أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (59) ترجمہ :اے نبیﷺ اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں ۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر وہ ستائی نہیں جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

سورہ نور میں ہے:قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَی لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) ترجمہ : مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں  اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہ ان کے لئے پاکیزگی ہےجو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے۔

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَی جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَی اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (31) ترجمہ : ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں سے یا اپنے خاوند کے لڑکوں سے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے۔اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ ۔‘‘

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ترجمہ : بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وہ اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگار ظاہر کرنے والیاں نہ ہوں۔تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہت افضل ہے اور اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے۔

سنن الترمذی میں ہے: الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ(سنن الترمذی،کتاب الرضاع،باب ما جاء في كراهية الدخول۔۔۔)

ترجمہ :’’ عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا رہتا ہے ۔‘‘

طبرانی میں ہے:لَيْسَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ في الخُرُوجِ إِلاَّ مُضْطَرَّةً(العجم الکبیر،مسند عبد اللہ ابن عمر،ص 172)ترجمہ :’’عورتوں کے لئے ضرورت کے علاوہ گھر سے نکلنا درست نہیں ۔‘‘

جواب نمبر 3:بہنوئی اور جیٹھ دونوں سے پردہ کرنا ضروری ہے شرعاً نا محرم ہیں جس سے عمر میں کبھی بھی نکاح صحیح ہونے کا احتمال ہو وہ شرعا ً محرم نہیں بلکہ نامحرم ہے اور جو حکم شریعت میں محض اجنبی اور غیر آدمی کا ہے وہی ان کا ہے گو کسی قسم کا رشتہ قرابت کا رکھتا ہو۔حدیث میں ہے:إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ(بخاری،کتاب النکاح،باب لا يخلون رجل بامرأة۔۔۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے گھر (تنہائی میں) جانے سے پرہیز کرو، ایک انصاری شخص نے کہا کہ دیور کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا دیور تو موت ہے (یعنی اس سے زیادہ بچنا چاہئے) ۔

جواب نمبر4:نامحرم کو سلام کرنا اور اس کے سلام کا جواب دینا خوف ِ فتنہ کی وجہ سے ناجائز ہے۔البتہ کوئی بڑی بوڑھی ہو تو اس کو سلام کہنا جائز ہے۔

ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا۔۔۔ ( قوله وإلا لا ) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها ، ولا يرد السلام بلسانه (رد المحتار،کتاب الحظر،فصل في النظر والمس)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل