لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سوال:برائے مہربانی مجھے یہ بتائیں کہ فوٹو گرافی کرنا اور اس پر معاوضہ لینا اور شادی بیاہ میں فوٹوگرافی کرنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ کسی جاندار اور ذی روح چیز کی تصویر کھینچنا اور کھنچوانا ،بنانا اور بنوانا خواہ ہاتھ کے ذریعے ہو یا جدید آلات (کیمرہ)کے ذریعے ہو ۔بہر صورت اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کی نقالی کی وجہ سے ناجائز ہے ۔لعنت خداوندی اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب کا سبب ہے ۔اسی طرح کسی ذی روح چیز کی تصویر کو جاذب نظر بنانے اور لوگوں کو اس کے دیکھنے کی طرف مائل کرنے کے لئے اس کی نوک پلک ٹھیک کرنا وغیرہ ۔ مزید برآں یہی پیشہ اور کسب معاش اختیار کرنا دوہرا گناہ اور انتہائی نازیبا عمل ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کا استعمال بھی حرام ہے۔

مسلم شریف میں ہے:وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً(مسلم،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحريم تصوير صورة الحيوان۔۔۔) ترجمہ:’’اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو میری مخلوق کی طرح چیزیں بناتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں) تو ان کو چاہیے کہ ایک چیونٹی ہی پیدا کر کے دکھائیں یا ایک دانہ گندم یا جو ہی پیدا کردیں۔‘‘

لہذا صورت ِ مسئولہ میں فوٹو گرافی کرنا اس کو پیشہ بنانا اور اس پر معاوضہ لینا اور شادی بیاہ میں جاندار چیزوں کی تصویریں بنانا جائز نہیں ہے۔البتہ بے جان چیزوں کی تصویریں بنانا جائز ہے۔

فإذا ثبت كراهة لبسها للتختم ثبت كراهة بيعها وصيغها لما فيه من الإعانة علی ما لا يجوز وكل ما أدی إلی ما لا يجوز لا يجوز(رد المحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل في اللبس)

قال النووی فی شرح مسلم:قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور فی الأحاديث وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالی وسواء ما كان فی ثوب أو بساط أودرهم أو دينار أو فلس أو اناء أو حائط أو غيرها وأما تصوير صورة الشجر ورحال الابل وغير ذلك مما ليس فيه صورة حيوان فليس بحرام هذا حكم نفس التصوير وأما اتخاذ المصور فيه صورة حيوان فان كان معلقا علی حائط أو ثوبا ملبوسا أو عمامة ونحوذلك مما لايعد ممتهنا فهو حرام وان كان فی بساط يداس ومخدة ووسادة ونحوها مما يمتهن فليس بحرام ولكن هل يمنع دخول ملائكة الرحمة ذلك البيت فيه كلام نذكره قريبا إن شاء الله ولافرق فی هذا كله بين ماله ظل ومالاظل له هذا تلخيص مذهبنا فی المسألة وبمعناه قال جماهير العلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم وهو مذهب الثوری ومالك وأبی حنيفة وغيرهم(المنهاج شرح صحيح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ، باب تحريم تصوير۔۔۔)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل