لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

سوال:میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکی جو کہ رومانی ایسٹرن یورپین ملک کی رہائشی ہے ۔ انگلینڈ میں ایک پاکستانی لڑکے نے پیسوں کی لالچ دے کر اس کو مسجد میں زبانی کلمہ بھی پڑھایا اور نکاح بھی  ۔لیکن دونوں جانتے تھے کہ یہ جھوٹ ہے اور دونوں نے کبھی ہم بستری نہیں کی۔کچھ عرصے بعد وہ لڑکی واپس اپنے ملک چلی گئی اور یہ لڑکا یہیں رہا۔اب سوال یہ ہے کہ وہ لڑکی باقاعدہ طور پر اسلام کو پڑھنے کے بعد مسلمان ہونا چاہتی ہے اور ظاہر ہے شادی بھی کسی مسلمان بھائی سے کرے گی۔تو کیا اس کو پہلے لڑکے کو ڈھونڈ کر اس سے طلاق لینی ہوگی کیا اس نکاح کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت ِ مسئولہ میں مسجد میں جا کر باقاعدہ اسلام قبول کرنے کا اقرار کرنے سے مذکورہ لڑکی دنیاوی اعتبار سے اسلام کے احکام کی پابند تھی اور دنیاوی معاملات میں اسلام کے احکام ان پر جاری ہوں گے ۔لہذااگر  پہلا نکاح درست تھا یعنی شرعی تقاضے پورے کئے گئے تھے تو اب دوسرا نکاح کرنے کے لئے پہلے شوہر سے طلاق یا خلع حاصل کرنا ضروری ہے ۔

والإقرار شرط لإجراء الأحكام الدنيوية۔۔۔( قوله لإجراء الأحكام الدنيوية ) أي من الصلاة عليه ، وخلفه والدفن في مقابر المسلمين والمطالبة بالعشور ، والزكوات ونحو ذلك ولا يخفی أن الإقرار لهذا الغرض لا بد أن يكون علی وجه الإعلان ، والإظهار علی الإمام وغيره من أهل الإسلام ، بخلاف ما إذا كان لإتمام الإيمان فإنه يكفي مجرد التكلم ، وإن لم يظهر علی غيره كذا في شرح المقاصد(رد المحتار،کتاب الجھاد،باب المرتد)

لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة(الفتاویٰ الھندیۃ،ص 280،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

لا يحكم بإسلام الكافر إلا بالنطق بالشهادتين وهذا مذهب أهل السنة(عمد القاری ،کتاب الزکاۃ،باب وجوب الزکاۃ)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل