لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

سوال:میرا دوست ابھی ابھی امریکا شفٹ ہوا ہے اور کھانے کی اشیاء خاص کر گوشت کے بارے میں بہت فکر مند ہے۔آپ سے درخواست ہے کہ رہنمائی فرمائیں آیا اہل کتاب کا ذبیحہ (اس معاشرے میں ذبح کرنے کے عرف کے ساتھ )جائز ہےیا کسی شرط کے ساتھ جائز ہے۔یہ بھی فرمایئے کہ اگرچہ ہمیں نہیں پتا کہ ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں اور اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ جانور کو ذبح کیا گیا ہے یا الیکٹرک شاک دیا گیا ہےتو ہمارے لئے کون سے راستے بچتے ہیں جن کے ذریعے ہم حلال گوشت حاصل کرسکیں ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی جانورکو ذبح کرنے کے لئے شریعت ِ مقدسہ نے چند شرائط رکھی ہیں :

1۔ذبح کرنے والے کا مسلمان یا اہل کتاب ہونا۔2۔بوقت ذبح تسمیہ پڑھنا۔3۔تحت العقد ذبح کرنا یعنی حلق اورلبی(جانور کے سینے کے اوپر کی ہڈی)کے درمیان ذبح کیا جائے گا اور ذبح کے وقت چار رگیں حلقوم (سانس کی نالی)مرئی (کھانے پینے کی نالی)اور ودجان (دو شہ رگیں جن میں خون کا دوران رہتا ہے) کا کاٹنا بھی ضروری ہے۔اگر مذکورہ شرائط پائی جائے تو ذبیحہ حلال ہوگا اور اگر نہیں پائی جاتیں تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا۔

وذبيحة المسلم والكتابي حلال ولا تؤكل ذبيحة المجوسي والمرتد والوثني والمحرم وإن ترك الذابح التسمية عمدا فالذبيحة ميتة لا تؤكل وإن تركها ناسيا أكلت والذبح في الحلق واللبةوالعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم والمريء والودجان فإذا قطعها حل الأكل(مختصر القدوری،ص 206، الناشر: دار الكتب العلمية،الطبعة: الأولی، 1418هـ – 1997م)

2۔اگر جانور کو ذبح کرنے والا عیسائی ہو یا یہودی تو اگر وہ اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کی پیروی کے دعویدار ہوں اور انہوں نے جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام (تسمیہ) لیا ہو تو ان کے ہاتھ کا ذبیح کھانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔تاہم موجودہ  دور کی جدت پسندی کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ عیسائی اور یہودی ایسے عقائد ونظریات پر عمل پیرا ہیں جو ان کے مذاہب کے بنیادی عقائد سے متصادم ہیں اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ ان کا ذبیحہ کھانے سے احتراز کیا جائے ۔

وحل ذبيحة مسلم وكتابي وصبي وامرأة(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،ص 286، الناشر: المطبعة الكبری الأميرية – بولاق، القاهرة،الطبعة: الأولی، 1313 هـ)

3۔جہاں مسلمان نگراں موجود نہ ہوں تو وہاں ہر گوشت کے حلال یا حرام کا مدار غیر مسلم کے قول پر ہوتا ہے اور حلت و حرمت میں غیر مسلم کا قول شرعا ً قبول نہیں ہوتا ۔البتہ معاملات میں غیر مسلم کا قول قبول کیا جائے گا بشرطیکہ صدق کا ظن ہو۔پس اگر گوشت بیچنے والا کہتا ہے کہ اس گوشت کو فلاں مسلمان نے ذبح کیا ہے یا کسی اہل کتاب نے ذبح کیا ہے اور وہ بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا ہے اور دل گواہی دے کہ وہ گوشت بیچنے والا صحیح کہتا ہے اور اس نے اس میں کوئی ناجائز گوشت نہیں ملایا تو فتویٰ کے رو سے اس گوشت کا استعمال کرنا جائز ہے لیکن تقویٰ کی رو سے اس سلسلہ میں عصر حاضر کی بے احتیاطیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ولا يقبل قول الكافر في الديانات إلا إذا كان قبول قول الكافر في المعاملات يتضمن قوله في الديانات فحينئذ تدخل الديانات في ضمن المعاملات فيقبل قوله فيها ضرورة هكذا في التبيين(الفتاویٰ الھندیۃ،ص 308، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

4۔ان ممالک یعنی یورپ ،امریکہ وغیرہ میں بند ڈبوں میں جو گوشت ملتا ہے ایسے گوشت کے بارے میں اگر غالب گمان یہ ہو کہ اس کے ذابحین(یعنی ذبح کرنے والے) مسلمان ہیں اور انہوں نے اسلامی طریقہ سے ذبح کیا ہے تو فتویٰ کی رو سے اس کا استعمال کرنا جائز ہے ۔مگر تقویٰ کی رو سے عصر حاضر کی بے احتیاطیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

 ( و ) ذكاة ( الاختيار ) ( ذبح بين الحلق واللبة ) ( وعروقه الحلقوم ) ( والمريء ) والودجان… وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا والشرط في التسمية هو الذكر الخالص عن شوب الدعاء (رد المحتار،کتاب الذبائح،ص 171)

نوٹ: ان ممالک میں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں مسلمان ذبح کرنے والے ہوں ان سے گوشت خریدکے اور خوب تحقیق کرنے کے بعد ان گوشت کو کھائے ،یہی تقویٰ کا تقاضہ ہے اور احتیاط بھی ہے۔اگر مرغی وغیرہ خود ذبح کرنا ممکن ہو تو مرغی ،بکری وغیرہ زندہ خرید کر خود یا کسی مسلمان سے ذبح کروائے ورنہ مچھلی وغیرہ پر اکتفاء کرے۔مزید یہ کہ آج کل دیار ِ مغرب میں بھی بعض کمپنیاں با اہتمام حلال فروزن گوشت کا وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہی ہیں اور وہ علما ءِ اسلام سے اپنے پروڈکٹس کے حلال ہونے کا سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کرتے ہیں ۔چنانچہ ان سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل