لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال :میں آپ سے چاند کے بارے میں یہ سوال کرناچاہتی ہوں کہ جب ہم ایک امت ہیں تو پھر ہر ملک خود اپنا چاند کیوں دیکھتا ہے اور پھر اس میں بہت اختلاف ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے الگ الگ جگہ رمضان اور عید ہوتی ہے جبکہ ترکی وغیرہ میں تو سعودیہ کے حساب سے رمضان اور عید ہوتی ہے ۔یہ مسئلہ عوام میں اب بہت زیادہ زیر بحث آتا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

متأخرین احناف میں سے حافظ زیلعی ؒ نے ’’کنزالدقائق‘‘کی شرح ’’تبیین الحقائق‘‘ میں لکھا ہے کہ بلاد بعید ہ میں اختلاف مطالع ہمارے نزدیک معتبر ہے ۔یعنی اہل مشرق اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کرسکتے ہیں اور اہل مغرب اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کر سکتے ہیں ۔ اہل مشرق کا چاند دیکھنا اہل مغرب کے لئے کافی نہ ہوگا بلکہ دونوں اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کریں گے۔بہرحال متأخرین احناف کے نزدیک بلاد بعیدہ میں اختلاف مطالع ہی راجح ہے ۔حضرت کشمیری ؒ اور علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ بلاد بعیدہ کا معیار صاحبِ ’’فتح الملھم‘‘ نے ان الفاظ کے ساتھ تجویز فرمایا ہے ’’نعم ینبغی ان یعتبر اختلافھا وان لزم منہ التفاوت بین البلدتین باکثر من یوم واحد‘‘ ترجمہ:’’جو بلاد (شہر)اتنی دور ہوں کہ ان کے اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنے سے ایک دن سے زیادہ کا فرق آتا ہو وہاں اختلاف مطالع معتبر ہوگا۔‘‘

یعنی ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ کے لئے کافی نہ ہوگی کیونکہ ایسے بلاد بعیدہ میں بھی اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کیا جائے تو مہینہ 28دن کا یا 31 دن کا ہوسکتا ہے ۔حالانکہ اسلامی مہینہ حدیث کی رو سے 29 یا 30 کا ہوتا ہے ۔اس لئے شرع نے جغرافیائی حدود کا لحاظ رکھا ہے اور ہر ملک اپنا چاند دیکھ کر رمضان اور عید کرتا ہے۔

أن المطالع لا تختلف إلا عند المسافة البعيدة الفاحشة(بدائع الصنائع،کتاب الصوم ،فصلشرائط انواع الصیام)

قال رحمه الله ( ولا عبرة باختلاف المطالع ) وقيل يعتبر ومعناه أنه إذا رأی الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخری يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان علی قول من قال لا عبرة باختلاف المطالع وعلی قول من اعتبره ينظر فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب وإن كان بحيث تختلف لا يجب۔۔۔ والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف(تبیین الحقائق،کتاب الصوم ،ص 78)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل