لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

میرے والد صاحب کا سودی بینک میں کریڈٹ کارڈ اکاؤنٹ ہے ۔وہ اپنے واجبات ہر مہینہ مقررہ تاریخ سے پہلے جمع کرواتے ہیں ۔ لہذا سود ادا نہیں کرنا پڑتا (میں پھر بھی اس کو پسند نہیں کرتا)انہیں بینک کی طرف سے کارڈ استعمال کرنے پر تحفتاً پوائنٹس ملتے ہیں جنہیں خریداری کے وقت یا پیٹرول بھرواتے وقت استعمال کرسکتے ہیں ۔

سوال نمبر 1:کیا مقررہ تاریخ سے پہلے واجبات ادا کرنے اور سود سے بچنے کی صورت میں کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا جائز ہے ؟

سوال نمبر 2:کیا بینک کی طرف سے تحفتاً دیے گئے پوائنٹس جائز ہیں ؟

جواب نمبر 3:اگر میرے والد یہ پوائنٹس کسی کو تحفتا ً دے دیں تو کیا اس شخص کے لئے یہ جائز ہوں گے ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ ہر طرح کے سودی معاملے میں کسی بھی درجے کی شمولیت جائز نہیں ہے۔ حدیث ِ رسول ﷺ میں اسے اس طرح واضح کیا گیا ہے:لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ (صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ،باب لعن آكل الربا۔۔۔) ترجمہ :’’رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کے کاتب (لکھنے والے) نیز گواہوں سبھی پر لعنت کی ہے اور فرمایا کہ وہ سبھی برابر ہیں۔‘‘

کریڈٹ کارڈ کا اجراء جس معاہدے کی بنیاد پر ہوتا ہے اُس کی ایک لازمی شق یہ بھی ہوتی ہے  کہ اگر وقت گزر گیا تو میں سود ادا کروں گا۔ظاہر ہے کہ جس طرح کسی حرام کا ارتکاب حرام ہے اسی طرح حرام کے ارتکاب کا وعدہ بھی حرام ہے اور جب تک یہ معاہدہ نہ کیا جائے کریڈٹ کارڈ کا اجراء نہیں ہوتا۔

 جواب نمبر 1:لہذا صورت ِ مسئولہ میں مقررہ تاریخ سے پہلے واجبات ادا کرنے اور سود سے بچنے کی صورت میں بھی کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا جائز نہیں ۔

ما حرم فعله حرم طلبه(الاشباہ والنظائر،ص: 183)

جواب نمبر 2:بینک کی طرف سے تحفۃً دئے گئے پوائنٹس بھی جائز نہیں اس لئے کہ وہ بھی شرعا ً سود ہے جو قطعا حرام ہے۔

قرآن میں ہے :أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔۔۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (البقرۃ275:،278) ترجمہ:اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔اے ایمان والوں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اورجو سودباقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم مومن ہو۔ آل عمران میں ہے :يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً(آل عمران: 130) ترجمہ :اے ایمان والوں سود کو بڑھا چڑھا کر مت کھاؤ۔

جواب نمبر3:اگر آپ کے والد یہ پوائنٹس کسی کو تحفتا ً دیں تو اس شخص کے لئے بھی ان کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔

آكل الربا وكاسب الحرام أهدی إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها كذا في الملتقط (الفتاویٰ الھندیۃ،ص343،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل