لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال: میں کراچی میں ایک (buying house) چلاتا ہوں (ایک ملک کی مارکیٹ سے بیرون ملک مقیم لوگوں کے لئے چیزیں خرید کربرآمد کرنے کا ادارہ)، اور لوگوں کے آرڈر پورے کرکے بھجوانے پر مجھے  کمیشن ملتا ہے۔امریکہ میں میرا گاہک انڈر انوائسنگ کرتا ہے (زیادہ مالیت کی اشیاء کی قیمت کم ظاہر کرتا ہے تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے)، اور جو کچھ ٹیکس میں بچت ہوتی ہے اس سے وہ میرا کمیشن دیتا ہے۔  جب ہم نے یہ کاروبار شروع کیا تھا، تو میں نے ہی اس کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا، جو کہ میری غلطی تھی۔براہ کرم میری  رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ رقم استعمال کی جاسکتی ہے، اور کیا اسے حلال آمدنی شمار کیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ کام ایک غیر مسلم ریاست میں ہو رہا ہے؟اگر یہ  غلط ہے تو کیا اس رقم کو صدقہ میں دیا جاسکتا ہے، یا  یہ رقم  لینامکمل طور پرناجائز ہے ؟

امید ہے کہ اوپر کئے گئے سوالات واضح ہیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

جو شخص سامان خرید لے وہ اس کا مالک ہوجاتا ہےاور اس کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ اس سامان کو خود استعمال کرے یا کسی کو ہبہ کردے یا فروخت کردے ۔لہذا کسی بیرونی ملک سے مال خریدنا یا وہاں لے جا کر بیچنا شرعا ً مباح ہے ۔لیکن ایک صحیح اسلامی حکومت اگر عام مسلمانوں کے مفاد کی خاطر کسی مباح چیز پر پابندی عائد کردے تو اس کی پابندی کرنا بھی شرعا ً ضروری ہوجاتا ہے ۔موجودہ مسلمان حکومتوں نے چونکہ اسلامی قوانین کو ترک کر کے غیر اسلامی قوانین نافذ کر رکھے ہیں ۔لہذا ان کو وہ اختیارات نہیں دیے جاسکتے جو صحیح اسلامی حکومت کو حاصل ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان کے احکام کی خلاف ورزی میں بہت سے منکرات لازم آتے ہیں مثلا ً :جھوٹ بولنا ، جان و مال یا عزت کو خطرے میں ڈالنا۔لہذا ان کے جائز قوانین کی پابندی کرنی چاہیے ۔اس کے علاوہ جب کوئی شخص کسی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے تو وہ قولا ً یا عملاً یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس حکومت کے قوانین کا پابند رہے گا ۔اس معاہدے کا تقاضہ یہ ہے کہ جب تک حکومت کا حکم معصیت پر مشتمل نہ ہو اس کی پابندی کی جائے ۔لہذا اسمگلنگ کرنا یا زیادہ مالیت کی اشیاء کی قیمت کو کم ظاہر کرنا تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے چونکہ حکومت نے ان پر پابندی لگا رکھی ہے اور اس پابندی کی خلاف ورزی میں مذکورہ مفاسد پائے جاتے ہیں ۔اس لئے علماء نے اس سے منع فرمایا ہے اور اس سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے ۔جو رقم کذب بیان اور دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئی ہے اس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے کیونکہ دھوکہ دینا حرام ہے ۔لہذا اگر ممکن ہو تو اس رقم کو اس ملک کے متعلقہ محکمے کو دیا جائے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اس رقم کو صدقہ کردیا جائے 

سنن الترمذی میں ہے:

مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا وقال الترمذی حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا الْغِشُّ حَرَامٌ  (سنن الترمذی ، کتاب البیوع، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع) ترجمہ :جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ۔حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک خرید و فروخت میں دھوکہ فریب حرام ہے۔

وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا(فتاویٰ ھندیۃ،ص 3، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

كل يتصرف في ملكه  كيف شاء(المجلۃ،ص 230، الناشر كارخانه تجارت كتب)

مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية۔۔۔ قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة(رد المحتار،کتاب الصلاۃ، باب العيدين)

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لأن الغش حرام(الدر المختار،ص 47، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1386،مكان النشر بيروت)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل