لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

سوال:میرے ایک دوست نے مجھے ایک حدیث وسیلہ کے حوالے سے بتائی ۔یہ حدیث مستدرک کی حدیث نمبر 4632 اور مجموع الزوائد کی حدیث نمبر 15400ہے اور حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں :

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں جب حضرت فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو تدفین کے وقت حضورﷺآپ کی قبر میں داخل ہوئے اور فرمایا یا اللہ میری ماں کی مغفرت فرما اور ان کی قبر کو وسیع فرما اپنے نبی (محمدﷺ)اور انبیاء کے وسیلے سے ۔میں اس حدیث کا مکمل متن جاننا چاہتا ہوں کیونکہ میرے پاس یہ کتابیں موجود نہیں ،آیا یہ اُن میں موجود ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اہل سنت والجماعت کے نزدیک اپنے اعمال صالحہ کے وسیلے اور انبیاء کرامؑ و اولیاء عظام کے توسل  سے دعا مانگنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔صحیح بخاری میں ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ(بخاری،کتاب الجمعۃ،باب سؤال الناس۔۔۔)ترجمہ:’’حضرت انس ؓروایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے دور میں جب بھی قحط سالی ہوتا تو حضرت عمر ؓ، حضرت عباس ؓکے توسل سے دُعا کرتے اور فرماتےاے اللہ پہلے ہم تیرے نبی ﷺسے (جب وہ زندہ ہم میں موجود تھے) بارش کے لئے اُن کے توسل سے دُعا کرتے تو ،تو ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب فرماتا اب (جبکہ نبی ﷺہم میں موجود نہیں ہیں) تیرے نبی ﷺکے چچا کو ہم تیری بارگاہ میں بطورِ وسیلہ  پیش کر کے دُعا کر رہے ہیں۔ یا اللہ! اس دُعا کو قبول فرما ہم پر بارش کا نزول فرما۔ (راوی کہتے ہیں کہ) اس پر بارش ہو جاتی۔‘‘

سائل کی بیان کردہ حدیث کا متن درج ذیل ہے:

عن أنس بن مالك قال لما ماتت فاطمة بنت أسد بن هاشم أم علي بن أبي طالب دخل عليها رسول الله صلی الله عليه و سلم فجلس عند رأسها فقال  رحمك الله يا أمي كنت أمي بعد أمي وتشبعيني وتعرين وتكسيني وتمنعين نفسك طيباوتطعميني تريدين بذلك وجه الله والدار الآخرة ثم أمر أن تغسل ثلاثا فلما بلغ الماء الذي فيه الكافور سكبه رسول الله صلی الله عليه و سلم بيده ثم خلع رسول الله صلی الله عليه و سلم قميصه فألبسها إياه وكفنها ببرد فوقه ثم دعا رسول الله صلی الله عليه و سلم أسامة بن زيد وأبا أيوب الأنصاري وعمر بن الخطاب وغلاما أسود يحفرون فحفروا قبرها فلما بلغوا اللحد حفره رسول الله صلی الله عليه و سلم بيده وأخرج ترابه بيده فلما فرغ دخل رسول الله صلی الله عليه و سلم فاضطجع فيه ثم قال  الله الذي يحيي ويميت وهو حي لايموت أغفر لأمي فاطمة بنت أسد ولقنها حجتها ووسع عليها مدخلها بحق نبيك والأنبياء الذين من قبلي فإنك أرحم الراحمين وكبر عليها أربعا وادخلوها اللحد هو والعباس وأبو بكر الصديق رضي الله عنهم (المعجم الکبیر،ص 351،الناشر : مكتبة العلوم والحكم الموصل،الطبعة الثانية ، 1404 1983) ترجمہ :حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں جب حضرت علی ؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ؓ کا انتقال ہوا تو رسول اللہﷺاُن کے پاس آئے اور اُن کے سرہانے بیٹھ گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ آپ پر رحم کرے اے میری ماں ، میری (سگی)ماں کے بعد آپ ہی میری ماں تھیں جو مجھے بہلاتی ،میرے کپڑے اتارتی پہناتی اور آپ نے (میری راحت کی خاطر)اپنے نفس کی قربانی دی  اور آپ مجھے اللہ کی رضا اور آخرت کےلئےکھلاتی تھیں۔پھر آپﷺ نے حکم دیا کہ ان کو تین بار غسل دیا جائے پھر جب کافور والاپانی پہنچاتو آپﷺ نے اپنے ہاتھ سے پانی بہایا پھر رسول اللہﷺنے اپنی قمیص اتاری اور اُن کو پہنانے کا اور اپنی دھاری دار چادر میں ان کو کفنانے کا حکم دیا۔پھر رسول اللہﷺ نے حضرت اسامہ ؓ،حضرت ایوب ؓ،حضرت عمرؓ اور ایک سیاہ غلام کو قبر کھودنے کے لئے بلایا پس انہوں نے قبر کھودی ۔ جب یہ حضرات  لحد تک پہنچ گئے تو رسول اللہﷺنے اسے اپنے ہاتھ سے کھودا اور اس کی مٹی نکالی پس جب اس سے فارغ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ قبر میں داخل ہوئے اور آپ ﷺنے اُس میں لیٹ کر دیکھا پھر فرمایا وہی ہے اللہ جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی (اے اللہ )میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور انہیں اُن کی حجت تلقین فرما اور اس قبر کو ان کے لئے کشادہ بنادے اپنے نبی(محمدﷺ) اور انبیاءؑ کے وسیلے سے جو کہ مجھ سے پہلے گزرے بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے پھر آپﷺنے (جنازے کی )چار تکبیریں کہیں اور حضورﷺ،حضرت عباس ؓ اور ابو بکر ؓ نے اُن کو لحد میں اتارا۔

مذکورہ بالا روایت میں روح بن صلاح موجود ہیں ۔بعض ائمہ نے ان کی تضعیف بھی کی ہے لیکن ابن حبان اور حاکم نے ان کو ثقہ کہا ہے لہذا یہ حدیث قابل عمل ہے۔

وقال الطبراني تفرد به روح بن صلاح قلت قال الهيثمي في مجمع الزوائدوفيه روح بن صلاح وثقه ابن حبان والحاكم وفيه ضعف وبقية رجاله رجال الصحيح فقد وثقه ابن حبان والحاكم كما ذكر الهيثمي فقد ضعفهابن عدی(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ،ص 80،دار النشر : دار المعارف ،الرياض ،الطبعة : الأولی،سنة الطبع : 1412 هـ / 1992م)

ومنھا حدیث فاطمۃ بنت اسد ؓ وفیہ من لفظ الرسول علیہ السلام بحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی۔۔۔و صححہ ابن حبان والحاکم واخرجہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط بسند فیہ روح بن صلاح وثقہ ابن حبان و الحاکم وبقیۃ رجالہ الصحیح کما قال الھیثمی(مقالات الکوثری،المقالۃ الثامنۃ والستون، ص 295)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل