لاگ ان
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022

سوال:میں مصری قراء کی قراءت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کیا وہ ٹھیک ہے ۔میں نے انٹرنیٹ پر پڑھا ہے کہ اس طرح کی قراءت میں موسیقی کے رمز ہیں تو کیا یہ طریقہ تلاوت ٹھیک ہے ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

آپ کے سوال سے یہ تأثر ملتا ہے کہ جیسے تمام مصری قراء کی تلاوت میں موسیقی کے رمز پائے جاتے ہیں ۔یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے ۔البتہ بعض مصری قراء اور دیگر کے ہاں بھی ایسی قراءتیں رائج ہیں جن میں موسیقی میں رائج اسالیب ِ غنا کی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ہمارے خیال میں آپ کا اشارہ مقامات کی جانب ہے۔ اس حوالے سے عرض ہے کہ قرآن پاک کو خوش الحانی سے پڑھنا ایک مستحسن امر ہے ۔ اس کی ترغیب بھی دی گئی ہے لیکن قرآن مجید کو موسیقی کے مشابہ پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ یہ مرض ہمارے معاشرے میں عام ہورہا ہے ۔سلف صالحین نے ہمیشہ اس قسم کی تلاوت کو برا سمجھا اور اس کی مذمت بیان کرتے رہے ہیں ۔اللہ پاک تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔

حافظ ابن قیم ؒ نے جو عمدہ بحث فرمائی ہے اُس کا خلاصہ اس طرح ہے:

لحن کی دوقسمیں ہیں :اول:ایک قسم وہ ہے جو طبعیت کے متقاضی ہو(یعنی طبعیت جس کا تقاضا کرے)۔اس میں تکلف اور بناوٹ  نہ ہو بلکہ وہ تکلف اور بناوٹ سے خالی ہو اور اس میں قواعدِ تجویدکی غلطی نہ ہو تو ایسی قراءت جائز ہے ۔جیسے کہ حدیث میں واقعہ درج ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺکا گزر حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے گھر سے ہوا تو آپ ﷺنے اُن کی  قراءت سنی اور اگلے روز ارشاد فرمایا کہ کل رات میں نے تمہاری قراءت سنی تمہیں داؤد ؑ جیسا لحن عطا کیا گیا ہے ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے پتا ہوتا کہ آپ میری قراءت سن رہے ہیں تو میں اپنی آواز کو اور مزین کرتا۔معلوم ہوا کہ حسن ِ قراءت کے لئے بہتر سے بہتر انداز اختیار کرنا جائز اور پسندیدہ ہے۔

دوم:دوسری قسم یہ ہے کہ ایسی آواز سے قراءت کی جائے جس میں بناوٹ ہو اور طبعیت اس کی متحمل نہ ہو اور اس میں تکلف بھی موجود ہو تو ایسی قراءت کو سلف نے ناپسند کیا ہے بلکہ اس کی مذمت کی ہے اور اس انداز سے قراءت کرنے کو منع کیا ہے۔ابن قیم ؒ کی بات مکمل ہوئی۔

واضح رہے کہ حسن ِ صوت یعنی آواز کو خوش کن اور متناسب بنانے کے کچھ اصول و قواعد ہیں جنہیں تمام ماہرین ِ اصوات استعمال کرتے ہیں ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ گائکی والے بھی اسی بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ آواز میں متناسب اور معنیٰ اور لہجوں میں ربط قائم ہو اور قراء بھی حسن ِ قراءت کے لئے اس حوالے سے کوشاں ہوتے ہیں ۔لہذا یہ مشابہت ایسی نہیں جو ناجائز ہو۔موسیقی کو ناجائز بنانے والی اصل شئی آلات ِ موسیقی ہیں ۔جن کی حرمت شریعت میں واضح ہے ۔

التطريب والتغنِّي علی وجهين، أحدهما: ما اقتضته الطبيعة، وسمحت به من غير تكلف ولا تمرين ولا تعليم، بل إذا خُلّي وطبعه، واسترسلت طبيعته، جاءت بذلك التطريب والتلحين، فذلك جائز، وإن أعان طبيعتَه بفضلِ تزيين وتحسين، كما قال أبو موسی الأشعري للنبي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَو علمتُ أنّكَ تَسمَع لَحَبَّرْتُه لَكَ تحبِيراً والحزين ومَن هاجه الطرب، والحبُ والشوق لا يملك من نفسه دفعَ التحزين والتطريب في القراءة، ولكن النفوسَ تقبلُه وتستحليه لموافقته الطبع، وعدم التكلف والتصنع فيه، فهو مطبوع لا متطبِّع، وكَلفٌ لا متكلَف، فهذا هو الذي كان السلف يفعلونه ويستمعونه، وهو التغني الممدوح المحمود، وهو الذي يتأثر به التالي والسامعُ، وعلی هذا الوجه تُحمل أدلة أرباب هذا القول كلها.

الوجه الثاني: ما كان من ذلك صناعةً من الصنائع، وليس في الطبع السماحة به، بل لا يحصُل إلا بتكلُّف وتصنُّع وتمرُّن، كما يتعلم أصوات الغِناء بأنواع الألحان البسيطة، والمركبة علی إيقاعات مخصوصة، وأوزانٍ مخترعة، لا تحصل إلا بالتعلُم والتكلف، فهذه هي التي كرهها السلفُ، وعابوها، وذمّوها، ومنعوا القراءةَ بها، وأنكروا علی من قرأ بها، وأدلة أرباب هذا القول إنما تتناول هذا الوجه، وبهذا التفصيل يزول الاشتباهُ، ويتبين الصوابُ من غيره، وكلُّ من له علم بأحوال السلف، يعلم قطعاً أنهم بُرآء من القراءة بألحان الموسيقی المتكلفة، التي هي إيقاعات وحركات موزونة معدودة محدودة، وأنهم أتقی للّه من أن يقرؤوا بها، ويُسوّغوها، ويعلم قطعاً أنهم كانوا يقرؤون بالتحزين والتطريب، ويحسِّنون أصواتَهم بالقرآن، ويقرؤونه بِشجیً تارة، وبِطَربِ تارة، وبِشوْق تارة، وهذا أمر مركوز في الطباع تقاضيه، ولم ينه عنه الشارع مع شدة تقاضي الطباع له، بل أرشد إليه وندب إليه، وأخبر عن استماع الله لمن قرأ به(زاد المعاد فی ھدی خیر العباد،ص 493،الناشر : مؤسسة الرسالة، بيروت – مكتبة المنار الإسلامية، الكويت،الطبعة : السابعة والعشرون 1415هـ /1994م)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل