لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

خلع کے سلسلے میں کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں ۔برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

سوال نمبر 1:خاتون کی اپنے شوہر سے کافی عرصے سے علیحدگی ہوچکی ہے ۔خاتون نے عدالت کے ذریعے خلع حاصل کرلی ۔کیا طویل عرصے تک علیحدگی کے بعد بھی خلع کے بعد عدت پوری کی جائے گی ؟

سوال نمبر 2:عدالت کے ذریعے سے خاتون کو خلع مل گئی لیکن شو ہر نے اس سلسلے میں قانونی نوٹس کے باوجود عدالت میں حاضری نہیں دی جس کی وجہ سے عدالت نے خاتون کے حق میں خلع کا فیصلہ دے دیا ۔اب شوہر کا کہنا یہ ہے کہ میں نے تو طلاق دی ہی نہیں اور نہ میں طلاق دینا چاہتا ہوں لہذا طلاق واقع نہیں ہوئی ۔اس صورت میں کیا حکم ہے کہ آیا خلع واقع ہوگئی یا نہیں ؟

سوال نمبر 3:اگر دو طلاق کے بعد مقررہ مدت میں رجوع نہیں کیا جائے تو کیا تیسری طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔دو طلاق کی عدت پوری کی ہے اب تیسری طلاق کی صورت میں عدت کی مدت کیا ہوگی ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جواب نمبر 1:میاں بیوی کے الگ رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا ۔اس لئے اگر شرعی ضابطے کے مطابق خلع لی جائے تو پوری عدت گزارنا ضروری ہوگا ۔ 

العدة بالنساء بالإجماع كذا في التمرتاشي إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية(فتاویٰ ھندیۃ،ص526،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

جواب نمبر 2:عدالتی یکطرفہ خلع شرعا ً معتبر نہیں ہے اس لئے کہ شرعی خلع کے لئے فریقین کی رضامندی شرط ہے ۔لہذا خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعا ً دونوں کا عقد ِ نکاح حسب ِ سابق قائم رہے گا اور یہ اب بھی باہم میاں بیوی ہیں ۔

والخلع جائز عند السلطان وغيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود(المبسوط ،کتاب الطلاق ،باب الخلع)

جواب نمبر 3:طلاق کے لئے طلاق کے الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے ۔لہذا صورت ِ مسئولہ میں دو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد تیسری طلاق خود بخود واقع نہیں ہوگی۔

وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة علی معنی الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد۔۔۔أو شرعا ، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ(بدائع الصنائع،کتاب الطلاق ،فصل فی بيان ركن الطلاق)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل