لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سوال:آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں قرآن و حدیث کی روشنی میں کہ ایسے پرفیوم استعمال کرنا جن میں الکوحل کے اجزاء شامل ہوں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

زمانہ ٔحاضر کے ایک نامور فقیہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اپنی کتاب’’ جدید فقہی مسائل‘‘ جلد اول ،ص74میں تحریر فرماتے ہیں :

’’ آج کل جو سینٹ استعمال کئے جاتے ہیں ان میں عام طور پر الکوحل کی آمیزش ہوتی ہے اور الکوحل بنیادی طور پر ایک نشہ آور شے ہے ۔ نشہ آور سیال چیزیں حرام بھی ہیں اور ناپاک بھی اور محض خوشبو کے لیے اس کا استعمال معمولی درجہ کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ایسی عطریات بھی موجود و دستیاب ہیں جو الکوحل سے خالی ہوتی ہیں ،اس لیے سینٹ کا استعمال درست نہیں ،فتاویٰ عالمگیری میں امام محمد ؒ کی کتاب الاصل کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے:’’اذا طرح فی الخمر ریحان یقال لہ سوسن حتی توجد رائحۃ فلا ینبغي أن یدھن او یتطیب بھا ولا یجوز بیعھا‘‘ ترجمہ:اگر شراب میں خوشبو دار پھول ڈال دیا جائے جس کو سوسن کہا جاتا ہے تاکہ اس کی بُو محسوس کی جائے تو اس سے تیل نکالنا یا اس کو خوشبو کے طور پر استعمال کرنا نہیں چاہیے اور نہ اس کی فروخت کرنا جائز ہے ۔‘‘

البتہ اس ضمن میں دیگر اہلِ علم میں سے کچھ کی رائے یہ بھی ہے کہ الکوحل کا پینا حرام ہے مگر اس کی معمولی مقدار کا سینٹ میں استعمال جائز ہے ۔ بہرحال مقدم الذکر رائے احتیاط کے حوالے سے قابلِ ترجیح ہے !واللہ اعلم

پاکستان کے ایک اور اہم فقیہ اور مایہ ناز عالم حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب اس بارے میں اپنی محققانہ رائے ’’تکملۃ فتح الملہم‘‘ میں اس طرح درج فرماتے ہیں:’’وبھذا یتبین حکم الکحول المسکرۃ(AL COHALS) التی عمت بھا البلویٰ الیوم فانھا تستعمل فی کثیر  من الأدویۃ والعطور والمرکبات الأخریٰ،فانھا إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتھا أو طھارتھا ،و إن اتخذت من غیرھما فالأمر فیھا سہل علی مذہب أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ ولا یحرم استعمالھا للتداوی أو لإ غراض مباحۃ أخریٰ ما لم تبلغ حد الإسکار لأنھا إنما تستعمل مرکبۃ مع المواد الأخریٰ ولا یحکم بنجاستھا أخذا بقول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ ۔و إن معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الأدویۃ والعطور وغیرھا لا تتخذ من العنب أو التمر إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغیرہ کما ذکرنا فی باب بیع الخمر من کتاب البیوع وحینئذ ھناک فسحۃ فی الأخذ بقول أبی حنیفۃ عند عموم البلویٰ ۔واللہ سبحانہ أعلم۔(تکملۃ فتح الملھم للشیخ محمد تقی العثمانی،کتاب الاشربۃ،ص 608،الناشر دارالعلوم کراتشی)ترجمہ :’’اس سے الکوحل  المسکرہ کا حکم واضح ہوگیاجس پر آج کل عموم بلوی ہے(یعنی جس میں اکثریت مبتلا ہے)اس لئے کہ (الکوحل)کثرت سے دوائیوں ،عطروں اور دوسرے مرکبات میں استعمال ہوتا ہے ۔اگر تو یہ انگور یا کھجور سے بنایا گیاہو تو اس کے حلال اور پاکیزہ ہونے کی کوئی صورت موجود نہیں ہےاور اگر یہ اُن دونوں (یعنی انگور اور کھجور)کے علاوہ کسی اور اشیاء سے بنایا گیا ہو توامام ابوحنیفہؒ کے مذہب میں اس کا حکم سہولت پرمبنی ہے اسی طرح دوائیوں اور کسی دوسری مباح اشیاء میں اس کا استعمال حرام نہیں ہےجب تک کہ یہ نشے کی حد یا مقدار کے برابر نہ پہنچ جائے کیونکہ یہ دیگر دوسرے مرکبات میں استعمال ہوتا ہے اور اس پر نجاست کا حکم نہیں ہے امام ابوحنیفہؒ کے قول کے مطابق ۔آج الکوحل کا بیشتر حصہ دوائیوں ،عطروں اور دوسری چیزوں میں استعمال ہوتا ہے جوکہ انگور یا کھجور سے نہیں بنایاجاتا بلکہ دانوں ،چھلکوں یا پیٹرول سے بنایاجاتا ہے یا ان جیسی دوسری چیزوں سے بنایا جاتا ہے جیسا کہ ہم نے باب بیع الخمر میں کتاب البیوع کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور آج کل اس(معاملے) میں کشادگی پائی جاتی ہے امام ابوحنیفہؒ کے قول کے مطابق کیونکہ اس میں عموم ِ بلوی ہے(یعنی اکثریت کا اس پر عمل ہے)۔‘‘

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل