لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:ایک حدیث میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی مسجد  میں داخل ہو تو اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پرھنی چاہیے ۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں نماز جمعہ کے لئے اس وقت آئے جب امام اردو خطبہ دے رہا ہو تو کیا اسے بھی دو رکعات پڑھنی چاہیے یا نہیں ۔ کہیں پڑھا تھا کہ ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد ذکر اور نماز کو پسند نہیں فرماتے تھے ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اصلا ً تو عربی خطبے کے آداب میں یہ بات داخل ہے کہ اُس کے دوران نہ بات چیت کی جائے نہ نوافل پڑھے جائیں اور نہ ہی سلام و ذکر وغیرہ۔یہاں تک کہ اذان کا جواب دینا بھی منع ہے ۔اسی طرح اردو خطبے کا بھی وہی مقصد ہے اور اس میں عموما ً قرآن ِ حکیم پڑھا جاتا ہے یا پڑھا جانا چاہیے ۔لہذا قرآن حکیم کے آداب اور دینی وعظ و نصیحت کی عظمت و اہمیت کا تقاضہ ہے کہ اس دوران تحیۃ المسجد وغیرہ نوافل ادا نہ کئے جائیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (204) ترجمہ:’’اور جب قرآن پڑھاجائے تو اسے غور سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل