لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:السلام علیکم!کیا ہم مشرکوں کے پکائے ہوئے  کھانے کھا سکتے ہیں ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

محض کسی کافر و مشرک کے کھانا پکانے سے وہ کھانا ناپاک یا حرام نہیں ہوجاتا جب تک کہ اس میں کسی قسم کی حرام چیز کی آمیزش نہ کی گئی ہو ۔لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا مشرک  کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جو حلال اشیاء پر مشتمل ہو اور اس میں کوئی نجس چیز بھی شامل نہ ہوکھا سکتا ہے لیکن مشرکین کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کو معمول بنا لینا درست نہیں اور اگر انہوں نے کوئی حرام چیز پکا لی ہو تو اس برتن کو اچھی طرح دھونے اور پاک کرنے کے بعدہی  اسے اپنے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد رحمه الله تعالی الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط(الفتاویٰ الھندیۃ،ص347،الناشر دار الفكر،
 سنة النشر 1411هـ – 1991م)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل