لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

سوال:میں اس رمضان المبارک میں متحدہ عرب امارات سے پاکستان سفر کررہا ہوں۔یہاں پاکستان سے ایک روز قبل رمضان المبارک شروع ہوگیا تھا۔اب اگر دونوں ممالک میں 30 دن کے روزے ہوتے ہیں، اور اگر میں تمام دنوں کے روزے رکھوں تو میرے 31 روزے ہوجائیں گے۔ کیا مجھے ایک دن کا روزہ چھوڑنا ہوگا یا ایک روزہ نفلی رکھوں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں سائل نے متحدہ عرب امارات میں روزے رکھنا شروع کیے اب پاکستان کا سفر درپیش ہے ۔ جہاں ایک دن بعد رمضان شروع ہوا تو پاکستان میں 30 روزے ہونے کی صورت میں سائل کے 31 روزے ہوجائیں گے تو سائل پر 31 واں روزہ رکھنا بھی لازم ہے، جس طرح ایک اکیلا آدمی چاند دیکھے اور اس کی گواہی قبول نہ ہو تو اس پر اپنی رویت کے اعتبار سے روزہ رکھنا لازم ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالٰی کا ارشاد ہے: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ(البقرۃ:185)ترجمہ:’’تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے (یا جو شخص بھی اس مہینے میں مقیم ہو) اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے‘‘لہٰذا جب تک پاکستان میں رمضان کا مہینہ ختم نہیں ہوجاتا اس وقت تک آپ پر روزہ رکھنا لازم ہے۔چاہے روزوں کی تعداد مجموعی اعتبار سے 31 ہی ہوجائے، سفر کرکے یہاں آجانے کے بعد آپ یہاں کی رویت کے پابند ہیں۔

تنبيه: لو صام رائي هلال رمضان وأكمل العدة لم يفطر إلا مع الإمام لقوله عليه الصلاة والسلام ’’ صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون‘‘رواه الترمذي وغيره والناس لم يفطروا في مثل هذا اليوم فوجب أن لا يفطر(رد المحتار،کتاب الصوم،باب سبب صوم رمضان)،

وأما صوم رمضان فوقته شهر رمضان لا يجوز في غيره،فيقع الكلام فيه في موضعين أحدهما في بيان وقت صوم رمضان،والثاني في بيان ما يعرف به وقته،أما الأول فوقت صوم رمضان شهر رمضان،لقوله تعالى’’فمن شهد منكم الشهر فليصمه‘‘أي فليصم في الشهر،وقول النبي صلى الله عليه وسلم’’وصوموا شهركم‘‘أي في شهركم لأن الشهر لا يصام وإنما يصام فيه(بدائع الصنائع،کتاب الصوم،فصل شرائط انواع الصیام)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل