لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال نمبر 1:جب میں مسجد جاتا ہوں تو یہ دیکھتا ہوں کہ بہت سارے لوگ بشمول میرے دوست،تراویح میں رکوع کے وقت نیت باندھتے ہیں ۔ مجھے یہ پسند نہیں اور میں انہیں اس سے روکنا چاہتا ہوں ۔تو کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اس عمل کا کیا  گناہ ہے تا کہ میں انہیں بتا سکوں ؟

سوال  نمبر 2:کچھ لوگ تو امام کے رکوع سے اٹھنے کے باوجود خود سے رکوع میں چلے جاتے ہیں اور پھر امام کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں ۔

سوال نمبر 3:ایک اور بات یہ ہے کہ جب تراویح میں صف مکمل نہ ہو اس کے باوجود لوگ پیچھے صف بنالیتے ہیں ۔برائے کرم واضح فرمائیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جواب نمبر 1:تراویح کے دوران پیچھے بیٹھے رہنا اور امام کے رکوع میں جانے کا انتظار کرنا اور رکوع کے وقت نیت باندھ کر نماز میں شامل ہونا مکروہ تحریمی ہے ۔یہ نماز میں سستی کی علامت ہے اور نماز میں سستی کرنا یہ منافقوں کا شیوہ ہے نہ کہ مسلمانوں کا ۔نیز اس طرح کرنے سے تراویح میں قرآن مجید سننے کی سنت بھی ادا نہیں ہوگی اور ثواب بھی پورا نہیں ملے گا ۔آخرت کے اعتبار سے نقصان ہوگا۔

جواب نمبر2:امام کے رکوع سے اٹھ جانے کے بعد خود سے رکوع کر کے نماز میں شامل ہونے سے مقتدی کی نماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی صورت میں ہر ہر رکعت میں امام کے متابعت ضروری ہے ۔اگر کسی رکن کو امام سے پہلے یا بعد میں ادا کرے اور اس میں امام کے ساتھ شریک نہیں ہوا تو مقتدی کی نماز نہیں ہوگی ۔

جواب نمبر3:صف اول میں جگہ ہونے کے باوجود دوسری صف میں کھڑا ہونا مکروہ ِ تحریمی ہے ۔اگلی صفوں کو پُر کرنے کے بعد پچھلی صفوں میں کھڑا ہونا چاہیے ۔

وتكره قاعدامع القدرة علی القيام ) كما يكره تأخير القيام إلی ركوع الإمام للتشبه بالمنافقين (قوله كما يكره) ظاهره أنها تحريمية للعلة المذكورة وفي البحر عن الخانية يكره للمقتدي أن يقعد في التراويح فإذا أراد الإمام أن يركع يقوم ؛ لأن فيه إظهار التكاسل في الصلاة والتشبه بالمنافقين قال تعالی  وإذا قاموا إلی الصلاة قاموا كسالی (رد المحتار،
 کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل)

يفسدها ( مسابقة المقتدي بركن لم يشاركه فيه إمامه ) كما لو ركع ورفع رأسه قبل الإمام ولم يعده معه أو بعده (مراقی الفلاح ،کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ)

كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة  قلت وبالكراهة أيضا صرح الشافعية  ( قوله كقيامه ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية ، ويرشد إلی الثاني قوله صلی الله عليه وسلم  ومن قطعه قطعه الله (رد المحتار ،کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل