لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

السلام علیکم!میں گھر خریدنے کے لئے رقم جمع کر رہا ہوں اور فی الحال اپنے والدین کے ساتھ رہ رہا ہوں ۔میرا سوال یہ ہے کہ:
 سوال نمبر 1:کیا اس مال پر زکو ٰۃ لاگو ہوتی ہے؟
 سوال نمبر 2:کیا میں زکو ٰۃ کا پیسہ اپنے بھائی کو کاروبار کے لئے دے سکتا ہوں؟
 سوال نمبر 3:اسٹاک مارکیٹ بزنس،طویل و مختصر میعادی خریدو فروخت برائے منافع؟مثلا ً آج ہم کے الیکٹرک کے شیئرز 8روپے کے حساب سے خریدتے ہیں اور اگر کل ان شیئرز کی قدر بڑھ کر 9 روپئے ہوجائے تو ہم ان شیئرز کو بیچ کر ہر شیئر پر 1روپے کا منافع کمالیں ۔یہ روزانہ کا معمول ہوتا ہے کبھی آپ کو منافع ہوتا ہے اور کبھی نقصان؟
 سوال نمبر4:اگر زکو ٰۃ کے سال کے بیچ میں منافع ملے (میری زکو ٰۃ کا سال یکم رمضان ہے)تو کیا مجھے پہلے رمضان کو زکو ٰۃ دینی ہوگی یا سال مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جواب نمبر 1:آپ نے جو پیسے اپنے ذاتی گھر کی خریداری کے لئے جمع کر رکھے ہیں تو ان پیسوں پر سال گزرنے سے پہلے اگر آپ نے گھر خرید لیا تو اس ان پیسوں پر زکو ٰۃ نہیں لیکن اگر ان پر سال گزر گیا اور آپ نے گھر نہیں خریدا تو ایسی صورت میں ان پیسوں پر زکو ٰۃ لازم ہوگی۔
 جواب نمبر2:بھائی کو دو شرطوں کے ساتھ زکو ٰۃ دینا جائز ہے ۔ایک شرط یہ کہ وہ بھائی مستحق زکو ٰۃ ہو یعنی اس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مال موجود نہ ہو ۔دوسری شرط یہ ہے کہ وہ بھائی زکو ٰۃ دینے والے کی کفالت میں نہ ہو۔اگر یہ دونوں شرطیں پائی جائیں تو غریب بھائی کو زکو ٰۃ دینا اولیٰ ہے کیونکہ اس میں صلہ رحمی بھی ہے۔باقی یہ کہ آپ اپنے مستحق ِ زکو ٰۃ بھائی کو رقم دے کر مالک بنادیں ۔پھر اس سے وہ جو کرنا چاہے کر لےلیکن اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اس کو کاروباری تعاون کے لئے زکو ٰۃ کی رقم دینے سے آپ کی زکو ٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
 جواب نمبر 3:مال ِ تجارت میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی زیادتی تو ہوتی ہی رہتی ہے ۔لہذا زکو ٰۃ کی ادائیگی میں جس دن زکو ٰۃ ادا کی جارہی ہے اس دن کی قیمت ِ فروخت کا اعتبار ہوگا قیمت خرید کا اعتبار نہیں ہوگا۔لہذا آپ کے الیکٹرک کے شیئرز کی خریدو فروخت کرتے ہیں تو جس دن آپ زکو ٰ ۃ ادا کریں اس دن جو قیمت شیئرز کی ہوگی اسی کے اعتبار سے اسے زکو ٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔
 جواب نمبر4:اگر کوئی شخص صاحب ِ نصاب ہے اور اس کا سال یکم رمضان سے یکم رمضان تک پورا ہوتا ہے تو درمیان سال میں جو منافع ہوا یا کوئی رقم سونا ،چاندی  وغیرہ مل گئی ان تمام چیزوں کا سال الگ نہیں ہوگا بلکہ جب یکم رمضان آئے گا تو ان چیزوں کی زکوٰۃ دینا بھی لازم ہوگا کیونکہ اصل نصاب پر سال گزر گیا تو گویا کہ بعد میں ملنے والی چیزوں پر بھی سال گزر گیا ۔

فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلی حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول ، وهي عنده ، لكن اعترضه في البحر بقوله : ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة ، وكذا في البدائع(رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ)
 ويجوز دفع الزكاة إلی من سوی الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم ؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم ولهذا تقبل شهادة البعض علی البعض(بدائع الصنائع،کتاب الزکاۃ، الذي يرجع إلی المؤدی إليه ) 
 وفی المضمرات الافضل صرف الزکاتین یعنی صدقۃ الفطر وزکاۃ المال الی احد ھؤلاء السبعۃ الاول ،اخواتہ الفقراء و اخواتہ ثم الی اولادہم ثم الی اعمامہ الفقراء(التاتارخانیۃ،بمن توضع فیہ الزکاۃ)
 وتعتبر القيمة يوم الوجوب وقالا يوم الأداء وفي السوائم يوم الأداء إجماعا(رد المحتار،کتاب الزکاۃ، باب زكاة الغنم)
 والمستفاد في الحول إن كان متفرعا من الأصل أو حاصلا بسببه كالولد والربح يضم إلی الأصل ويزكی بحول الأصل بالإجماع (بدائع الصنائع،کتاب الزکاۃ،فصل الشرائط التي ترجع إلی المال)
 ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلی ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك(فتاویٰ ھندیۃ،ص 175، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4691 :

لرننگ پورٹل