لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال : السلام علیکم! بھائی ہمارے ایک عزیز ہیں، انہوں نے بنا کسی وجہ سے روزہ توڑ دیا تھا، ان کو کوئی بیماری بھی نہیں تھی، ان کے گھر کا ماحول اس دن تھوڑا گرم تھا جس کی وجہ سے انہوں نے روزہ توڑدیا اور اگر وہ روزہ نہ توڑتے تو ہوسکتا تھا کہ ان کی طبیعت خراب ہوجائے۔ تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر کسی حقیقی عذر کے بغیر رمضان کا روزہ توڑا گیا ہے تو اس کی قضا بھی کی جائے اور کفارہ بھی ادا کیا جائے۔ روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ  لگا تار دو ماہ کے روزے رکھے، بیچ میں کسی دن کا روزہ نہ چھوڑے، اگر چھوڑ دیا تو نئے سرے سے دو ماہ کے روزے رکھنے ہوں گے۔ البتہ اگر کسی ایسی بیماری جس میں روزہ رکھنا ناممکن ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے اس کی طاقت نہ ہو تو روزے کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دیا جائے۔ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ مثلاً نفلی، قضاء، نذر وغیرہ کا روزہ توڑا تو اس کی صرف قضاء ہے کفارہ نہیں۔

فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو أفطر ولو لعذر استأنف إلا لعذر الحيض. (رد المحتار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3082 :

لرننگ پورٹل