لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

سوال:زید نے رات کو جماع کیا اور اسی حالت میں اسے نیند آگئی جب آنکھ کھلی تو اذان فجر ہو چکی تھی اس نے جلدی میں پانی پیااور روزے کی نیت کرلی اور پھر سوگیا پھر کچھ گھنٹے بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اس خیال سے کہ چونکہ میں جنابت کی حالت میں تھا اور اذان بھی ہوچکی تھی لہٰذا میرا روزہ ہوا ہی نہیں پھر دوبارہ اس نے جماع کرلیا۔ اب شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں چونکہ سائل نے اذان کے بعد پانی پیا تھا تو اس کا روزہ ہی نہیں ہوا، لہٰذا اس کے بعد دوبارہ جماع کرنے سے سائل پر کچھ لازم نہیں، صرف اذان کے بعد پانی پینے کی وجہ سے جو روزہ نہیں ہوا اس کی قضا لازم ہے۔ البتہ اگر سائل کی اہلیہ کا روزہ تھا اور سائل نے ان کے ساتھ ہمبستری کرلی اور ان کو روزہ یاد بھی تھاتو ایسی صورت میں سائل کی اہلیہ پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

( أو تسحر ) أي أكل السحور بفتح السين اسم للمأكول في السحر وهو السدس الأخير من الليل ( أو جامع شاكا في طلوع الفجر ) قيد في الصورتين ( وهو ) أي والحال أن الفجر ( طالع ) لا كفارة عليه للشبهة لأن الأصل بقاء الليل ويأثم إثم ترك التثبت مع الشك(مراقی الفلاح،کتاب الصوم،باب ما يفسد به الصوم وتجب به الكفارة مع القضاء)
 من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة ولا يشترط الإنزال في المحلين(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصوم،الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد)،
 ثم عندنا كما تجب الكفارة بالوقاع علی الرجل تجب علی المرأة(الھدایۃ،فصل في رؤية الهلال)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر1193 :

لرننگ پورٹل