لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

ایك شخص زكوةكی مد میں مستحقین كودوائیاں دینا چاہتاہے،جس شخص كے ذریعہ دوائیاں منگوارہاہے ،چوں كہ دوائیاں لانے میں اس كی محنت اور وقت لگاہے،اور یہ دوائیاں زكوة نكالنے كے لیے ہی منگوائی جارہی ہیں،توكیا اس شخص كو زكوة كی رقم سے اجرت دینا جائزہےیا نہیں؟

جزاك اللہ خیرا ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

زکوۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ زکوۃ کی رقم بلا کسی عوض کے کسی مستحق کو مالک بنا کر دی جائے ، اگر اجرت کے طور پر دی گئی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔لہٰذا مذکورہ شخص کو زکوۃ کی رقم بطور اجرت دینا جائز نہیں۔بلكہ دوائی منگوانے والے پر لازم ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کے علاوہ رقم سے اس محنت کرنے والے کی اجرت ادا کی جائے۔

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة.(الدر المختار،۲/۳۴۴)

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله – تعالی – هذا في الشرع كذا في التبيي.(الفتاوی الهندية،۱/۱۷۰)

مصرف الزکاۃ… ھو فقیر، وھو من لہ أدنی شیء، أی: دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجۃ. (ومسکین من لا شیء لہ) علی المذھب…کفقیر استغنی وابن سبیل وصل لمالہ.(الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین،۲/۳۳۹)

وإن استأجرہ لیذھب بکتابہ إلی فلان بالبصرۃ ویجیء بجوابہ فذھب فوجد فلانا میتا فردہ فلا أجر لہ وھذا عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ وقال محمد رحمہ اللہ لہ الأجر فی الذھاب لأنہ أوفی بعض المعقود علیہ وھو قطعا لمسافۃ وھذا لأن الأجر مقابل بہ لما فیہ من المشقۃ دون حمل الکتاب لخفۃ مؤنتہ وإن ترک الکتاب فی ذلک المکان وعاد یستحق الأجر بالذھاب بالإجماع(الھدایۃشرح البدایۃ،۳/۲۳۴)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4663 :

لرننگ پورٹل