لاگ ان
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022

سوال:اگر کسی عورت کا شوہر وفات پا جاتا ہے اور اس عورت کو وفات کے۱۵ ماہ بعد بچہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ عورت کا کہنا یہ ہے کہ بچہ اس کے شوہر کا ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس حوالے سے اسلام ہمیں کیا تعلیمات دیتا ہے کہ ڈلیوری کا دورانیہ کیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

شوہر کی وفات کے بعد اگر چھ ماہ کے اندر اندر بچہ پیدا ہو گیا تو اس کا حمل مطلقا باپ سے ثابت ہو گا اور اگر چھ ماہ کے بعد اور دو سال کے اندر اندر بچہ پیدا ہو ااور اس دوران عورت نے عدت گزرنے کا اقرار بھی نہیں کیا تو بھی بچہ ثابت النسب ہوگا ،لیکن اگر عدت گزرنے کا اقرار کر لیا اور اس کے بعد چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصے کے بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ ثابت النسب نہیں ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر کی وفات کے بعد اگر خاتون نے وفات کی عدت گزرنے کا اقرار نہیں کیا اور بچے کے متعلق وفات پانے والے شوہر کے نطفے سے ہونے کی دعویدار ہے تو بچے کا نسب اپنے باپ سے ثابت ہوگا۔

ولو مات عنها قبل الدخول أو بعده، ثم جاءت بولد من وقت الوفاة إلى سنتين يثبت النسب منه، وإن جاءت به لأكثر من سنتين من وقت الوفاة لا يثبت النسب هذا كله إذا لم تقر بانقضاء العدة، وإن أقرت، وذلك في مدة تنقضي في مثلها العدة الطلاق والوفاة سواء، ثم جاءت به لأقل من ستة أشهر من وقت الإقرار يثبت النسب وإلا فلا (الفتاوى الهندية، 1/ 537)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4660 :

لرننگ پورٹل