لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

سوال: السلام علیکم!ہم سڈنی(آسٹریلیا)میں رہائش پذیر ہیں، اور کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے طے کیا کہ ہم اپنے رشتہ داروں کے علاقے(لانڈھی)میں پانی کے لیے کھدائی کروائیں۔لانڈھی کے علاقے میں زیادہ تر غریب لوگ آباد ہیں جو اپنی روز مرہ کی ضروریات کے لیے پانی خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے، اس کام کے لیے ہم نے سڈنی میں اپنے دوستوں سے تعاون کی اپیل کی اور بحمداللہ مطلوبہ رقم جمع ہوگئی۔ لیکن کچھ افراد نے اس کی مد میں زکوٰۃ کی رقم جمع کروائی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کام کے لیے کل رقم یا کچھ رقم زکوٰۃ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے؟ کیا یہ’فی سبیل اللہ‘ کے زمرے میں آتا ہے؟ مسئلہ کی نوعیت کی بنا پر ہمیں آپ کا جواب فوری بنیادوں پر درکار ہے۔جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

 واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے مستحق کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنادینا ضروری ہے۔ بغیر مالک بنائے مستحق کی ضروریات کے پورا کرنے یا پھر زکوٰۃ کی رقم کو رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ لہٰذا پانی کی کھدائی کے لیے جتنے لوگوں نے زکوٰۃ کی رقم جمع کروائی ان کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ اور سبیل اللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہاد یا پھر حج کے لیے نکلے ہوں اور اپنا مال کھوچکے ہوں تو وہ لوگ زکوٰۃ لے سکتے ہیں۔ مذکورہ صورت سبیل اللہ میں شامل نہیں ہے۔(1)

1۔ إذا دفع الزكاة إلی الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف، فصل ما يوضع في بيت المال۔۔۔)، ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد وكذا القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف)، وفي سبيل الله منقطع الغزاة عند أبي يوسف رحمه الله لأنه هو المتفاهم عند الإطلاق وعند محمد رحمه الله منقطع الحاج لما روي أن رجلا جعل بعيرا له في سبيل الله فأمره رسول الله عليه الصلاة والسلام أن يحمل عليه الحاج ولا يصرف إلی أغنياء الغزاة عندنا لأن المصرف هو الفقراء(الھدایۃ،فصل فی العروض)،

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر1326 :

لرننگ پورٹل