لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:اگر روزے کی حالت میں شوہر بیوی کے ساتھ تعلق قائم کرے تو کیا بیوی پر کفارہ واجب ہوگا ؟کیا دو ماہ کے روزے رکھنے کے علاوہ اور بھی کوئی کفارہ ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

رمضان کے روزے کی حالت میں جان بوجھ کر میاں بیوی کے باہم تعلق ِ زن وشو قائم کرنے کی صورت میں دونوں پر قضاء اور کفارہ لازم ہوتا ہے ۔(1)روزے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کیا جائے ،ساٹھ روزے مسلسل رکھے جائیں یا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ۔چونکہ موجودہ زمانے میں غلام اور باندیاں نہیں ہیں اس لئے کفارہ کی ادائیگی کی صرف دو صورتیں باقی ہیں لیکن یہ دونوں صورتیں اختیاری نہیں بلکہ ان میں ترتیب ضروری ہے ۔ لہذا جب تک کوئی شخص ساٹھ روزے رکھنے پر قادر ہے اس وقت تک ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا ۔بلکہ ساٹھ روزے رکھنا ہی لازم ہوں گے۔(2)البتہ عورتوں کے لئے ایام ماہواری چونکہ ایک شرعی عذر ہے اس لئے مہینے کے درمیان میں اگر ماہواری شروع ہوجائے تو ان ایام میں روزے چھوڑ کر جب پاک ہوں تو دوبارہ روزے رکھ کر گنتی پوری کر لے ۔از سرِ نو روزے رکھنے کی ضرورت نہیں لیکن اگر حیض کے علاوہ ایک روزہ بھی چھوٹ گیا تو از سر نو ساٹھ روزے رکھنا لازم ہوگا ۔(3)نیز اگر قمری مہینے کی ابتداء سے کفارہ کے روزے رکھنے شروع کئے تو رویت ِ ہلال کے اعتبار سے دو مہینوں کا اعتبار ہوگا اور کفارہ کے روزے مہینے کے درمیان شروع کئے تو ساٹھ دنوں کا اعتبار ہوگا۔(4)

1۔ ومن جامع في أحد السبيلين عامدا فعليه القضاء استدراكا للمصلحة الفائتة والكفارة لتكامل الجناية ۔۔۔ثم عندنا کماتجب الکفارۃ بالوقاع علی الرجل تجب علی المرأۃ (ھدایۃ،فصل فی رؤیۃ الھلال،جلد 1،ص124،الناشر المكتبة الإسلامية) 2۔ فأكل عمدا قضی وكفر ككفارة المظاهرای کذا في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع فاطعام ستين مسكينا(رد المحتار،کتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم۔۔۔)
 3۔ وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو افطر ولو لعذر استأنف الا لعذر الحیض (رد المحتار،کتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم۔۔۔)4۔ وحاصله أنه إذا ابتدأ الصوم في أول الشهر كفاه صوم شهرين تامين ، أو ناقصين ، وكذا لو كان أحدهما تاما والآخر ناقصا ( قوله : وإلا ) أي وإن لم يكن صومه في أول الشهر برؤية الهلال بأن غم ، أو صام في أثناء شهر فإنه يصوم ستين يوما .وفي كافي الحاكم وإن صام شهرا بالهلال تسعة وعشرين وقد صام قبله خمسة عشر وبعده خمسة عشر يوما أجزأه(رد المحتار،کتاب الظھار،باب کفارۃ الظھار)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر1392 :

لرننگ پورٹل