لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سوال: میرا یہ سوال ہے کہ سوئیڈن میں 20 گھنٹے بعد سورج غروب ہوتا ہے اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں،تو پڑوس میں بوسنیا اور ترکی ممالک ہیں،تو کیا وہاں کا روزہ کھولنے کا وقت  ترکی کے حساب سے ہوگا یا بوسنیا کے؟ جلد از جلد رہنمائی فرمائیں کیونکہ رمضان قریب ہیں۔جزاک اللہ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ صبح صادق سے روزے کا آغاز ہوتا ہے اور غروب آفتاب پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ اگر جغرافیائی اور موسمی حالات کے لحاظ سے گھنٹوں کے شمار میں کمی بیشی ہوتی ہے مثلاً دن بارہ گھنٹے کے بجائے سولہ ،سترہ یا اٹھارہ گھنٹے کا ہوجائے تو آفتاب غروب ہونے تک روزہ رکھنا لازم ہوگا،سورج غروب ہونے سے پہلے صبح صادق سے بارہ گھنٹے کا حساب کرکے افطار کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔اگر صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک غیر معمولی فرق ہوجائے مثلاً بیس یا بائیس گھنٹوں کا دن ہوجائے اور دو چار گھنٹوں کی رات رہ جائے تو بھی آفتاب غروب ہونے تک روزہ رکھنا لازم ہوگا۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے ملک سوئیڈن میں 20 گھنٹے بعد سورج غروب ہوتا ہے تو ایسی صورت میں سائلہ اور سوئیڈن کے رہنے والے تمام مسلمانوں پر 20 گھنٹے کا روزہ مکمل کرنا لازم ہے۔البتہ اگر  روزہ مستقلاً بہت طویل ہو اور رکھنا بہت دشوار ہوجائے یعنی انتہائی کمزوری یا ہلاکت کا اندیشہ ہو خصوصاً جب کوئی شخص مریض بھی ہو تو ایسی صورت میں رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھیں بلکہ بعد میں جب موسم ہلکا اور برداشت کے قابل ہوجائے اور اوقات نسبتاً کم ہوجائیں تو قضا کرلیں۔آس پاس کے علاقوں کا اعتبار اس وقت کیا جائے گا جب کہ سوئیڈن میں سورج غروب ہی نہ ہو بلکہ چوبیس گھنٹے سورج نکلا رہے۔ایسی صورت میں روزہ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح نماز کے اوقات کا اندازہ سے تعین کیاجاتا ہے اسی طرح ماہ رمضان کی آمد اورروزے کی ابتداء  اور انتہا ء کے اوقات کو بھی متعین کیا جائے۔ یا ایسے علاقے کے لوگ آس پاس کے علاقے جہاں دن رات معمول کے مطابق ہوں ان کا اعتبار کرکے روزہ رکھیں۔(1)

1۔لم أر من تعرض عندنا لحكم صومهم فيما إذا كان يطلع الفجر عندهم كما تغيب الشمس أو بعده بزمان لا يقدر فيه الصائم علی أكل ما يقيم بنيته ، ولا يمكن أن يقال بوجوب موالاة الصوم عليهم ؛ لأنه يؤدي إلی الهلاك .فإن قلنا بوجوب الصوم يلزم القول بالتقدير ، وهل يقدر ليلهم بأقرب البلاد إليهم كما قاله الشافعية هنا أيضا ، أم يقدر لهم بما يسع الأكل والشرب ، أم يجب عليهم القضاء فقط دون الأداء ؟ كل محتمل، فليتأمل .(رد المحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب فی طلوع الشمس من مغربھا)،
(العاجز عن الصوم ) أي عجزا مستمرا كما يأتي أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء(حاشیہ ابن عابدین،کتاب الصوم،فصل في العوارض)
 ويجري ذلك فيما لو مكثت الشمس عند قوم مدة ،قال في إمداد الفتاح قلت وكذلك يقدر لجميع الآجال كالصوم والزكاة والحج والعدة وآجال البيع والسلم والإجارة وينظر ابتداء اليوم فيقدر كل فصل من الفصول الأربعة بحسب ما يكون كل يوم من الزيادة والنقص كذا في كتب الأئمة الشافعية ونحن نقول بمثله إذ أصل التقدير مقول به إجماعا في الصلوات
 (حاشیہ ابن عابدین،کتاب الصلاۃ، مطلب في طلوع من مغربها)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر1170 :

لرننگ پورٹل