لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

سوال: میں زمینوں کا کاروبار کرتا ہوں، اور بیچنے کی نیت سے زمینیں خریدتا ہوں، تاکہ نفع کماسکوں۔ میرے پاس فی الوقت کچھ زمینیں ہیں جنہیں میں بیچنے کی کوششیں کررہاہوں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا مجھے ان زمینوں کی زکوٰۃ ابھی ادا کرنی ہوگی یا میں ان زمینوں کے بکنے کا انتظار کروں اور ملنے والی رقم پر زکوٰۃ ادا کروں؟ اسلام اس معاملے میں کیا رہنمائی کرتا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ وہ زمین،مکان ، پلاٹ وغیرہ جو بیچنے کی نیت سے خریدے جائیں وہ مال تجارت کے حکم میں ہیں اور ان پر سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل نے جتنی زمینیں بیچنے کی نیت سے خریدی ہیں ان زمینوں پر اگر سال گزر چکا ہے تو فی الفور زکوٰۃ واجب ہے زمینوں کے بکنے کا انتظار کرنا اور پھر ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے زکوٰۃ ادا کرنا درست نہیں۔(1)

1۔وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة (بدائع الصنائع،کتاب الزکاۃ،فصل صفۃ نصاب التجارۃ)،
 ( أو نية التجارة ) في العروض ، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء(رد المحتار،کتاب الزکاۃ)،
 وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض ولو نوی التجارة بعد العقد أو اشتری شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه(الدر المختار،کتاب الزکاۃ)،
 وهي واجبة علی الفور وعليه الفتوی فيأثم بتأخيرها بلا عذر وترد شهادته(طحطاوی علی المراقی،کتاب الزکاۃ)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر1174 :

لرننگ پورٹل