لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

سوال نمبر1:کیا رمضان میں حجامہ کروایا جاسکتا ہے؟
 
سوال نمبر2:رمضان کی 3 عشروں کی دعائیں پڑھنا مسنون ہے؟
 
سوال نمبر3:چونکہ مغرب کا وقت کم ہوتا ہے اگر اذان ہوتے ہی کھجور سے روزہ کھول کرفوراً مغرب کی نماز ادا کرلی جائے اور پھر آرام سے بیٹھ کر افطاری کی جائے تو کیا یہ عمل پسندیدہ ہے؟ تاکہ مغرب کی نماز اول وقت پر ادا کرلی جائے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ رمضان المبارک کے مہینے میں حجامہ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔(1)
 آپﷺنے فرمایا: لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنْ احْتَلَمَ وَلَا مَنْ احْتَجَمَ(سنن ابی داود،کتاب الصوم،باب في الصائم يحتلم نهارا۔۔۔)ترجمہ:’’جس کو قے ہوئی یا احتلام ہوا یا پچھنے لگوائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا۔‘‘البتہ مذکورہ حدیث کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجامہ لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
 بخاری شریف میں ہے: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ(بخاری،کتاب الصوم،باب الحجامة والقيء للصائم) ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ ٹوٹ گیا پچھنے لگانے اور لگوانے والے کا۔
 اس سے مراد یہ ہے کہ عنقریب ان کا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس زمانے میں حجامہ لگانے والا منہ سے خون کو کھینچتا تھا اس لئے اس کا روزہ منہ میں خون جانے کی بناء  پر ٹوٹنا لازم تھا اور لگوانے والے کو کمزوری ہوجائے گی تو وہ بھی روزہ توڑ دے گا۔اس لئے فرمایا کہ حجامہ لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔اگر اس حدیث ’’ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ‘‘کو اپنی اصل پر رکھا جائے یعنی یہ سمجھا جائے کہ حجامہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تب بھی دیگر روایات کی روشنی میں حجامہ لگانے کی اجازت اور گنجائش معلوم ہوتی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ حجامہ سے روزہ ٹوٹ جانے والی روایات منسوخ ہوچکی ہیں ۔لہذا اب حجامہ لگوانے میں کوئی حرج نہیں۔
 2۔واضح رہے کہ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور  تیسرا عشرہ جہنم سے خلاصی حاصل کرنے کا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے:خطبنا رسول الله صلی الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان فقال :يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّی فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّی فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّی سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يُزَادُ فِي رِزْقِ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفْطِرُ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ يُعْطِي اللهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَی مَذْقَةِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ، وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّی يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيهِ غَفَرَ اللهُ لَهُ وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ(شعب الایمان للبیھقی، باب في الصيام فضائل شهر رمضان) ترجمہ:’’حضرت سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے (جمعہ کا یا بطور تذکیر و نصیحت) خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! باعظمت مہینہ تمہارے اوپر سایہ فگن ہو رہا ہے (یعنی ماہ رمضان آیا ہی چاہتا ہے) یہ بڑا ہی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام (عبادت خداوندی) جاگنا نفل قرار دیا ہے جو اس ماہ مبارک میں نیکی (یعنی نفل) کے طریقے اور عمل سے بارگاہ حق میں تقرب کا طلبگار ہوتا ہے تو وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے جس نے رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا ہو  اور جس شخص نے ماہ رمضان میں (بدنی یا مالی ) فرض ادا کیا تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جس نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں ستر فرض ادا کئے ہوں اور ماہ رمضان صبر کا مہینہ ہے  وہ صبر جس کا ثواب بہشت ہے ماہ رمضان غم خواری کا مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں  مومن کا  رزق زیادہ کیا جاتا ہے جو شخص رمضان میں کسی روزہ دار کو  افطار کرائے تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش و مغفرت کا ذریعہ اور دوزخ کی آگ سے اس کی حفاظت کا سبب ہو گا اور اس کو روزہ دار کے ثواب کی مانند ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! ہم میں سب تو ایسے نہیں ہیں جو روزہ دار کی افطاری کے بقدر انتظام کرنے کی قدرت رکھتے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی عنایت فرماتا ہے جو کسی روزہ دار کو ایک گھونٹ لسی یا کھجور اور یا ایک گھونٹ پانی ہی کے ذریعے افطار کرا دے اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلائے تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض (یعنی حوض کوثر) سے اس طرح سیراب کرے گا کہ وہ (اس کے بعد) پیاسا نہیں ہو گا۔ یہاں تک کہ وہ بہشت میں داخل ہو جائے اور ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے درمیانی حصہ بخشش ہے یعنی وہ مغفرت کا زمانہ ہے اور اس کے آخری حصے میں دوزخ کی آگ سے نجات ہے ۔اور جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام و لونڈی کا بوجھ ہلکا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اسے آگ سے نجات دے گا۔‘‘
 آپ ﷺ کا ارشاد ہے:ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الصَّائِمُ حَتَّی يُفْطِرَ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ(سنن الترمذی،کتاب الدعوات ، باب في العفو والعافية) ترجمہ:’’تین آدمیوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ روزہ دار کی یہاں تک کہ وہ  افطارکرے، عادل حاکم کی اور مظلوم کی دعا۔‘‘
 لہذا ان دو روایات کی روشنی میں اگر پہلے عشرے رحمت کی دعا اور دوسرے میں مغفرت کی دعا اور تیسرے میں جہنم سے  خلاصی کی دعا کی جائے تو باعث خیر و برکت اور اقرب الی الاجابۃ ہے(قبولیت سے زیادہ قریب) اور چونکہ رحمت کی دعايَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ(سنن الترمذی، کتاب الدعوات،باب منہ)ترجمہ:اے زندہ اور (زمین وآسمان) کو قائم رکھنے والے تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں۔اور مغفرت کی دعااللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي(سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب منہ )ترجمہ:اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو ہی پسند فرماتا ہے۔ پس مجھے معاف فرما دے۔اسی طرح جہنم سے خلاصی کی دعا اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ النَّارِ(سنن ابی داود،كتاب الأدب،باب ما يقول إذا أصبح) ترجمہ:اے اللہ مجھے آگ کے عذاب سے بچا۔
 احادیث میں موجود ہیں اس لیے رمضان المبارک میں ان دعاؤں کا پڑھنا بہتر اور اولٰی ہے۔ یہ دعائیں پڑھنا مطلقاً تو مسنون ہے لیکن رمضان المبارک کے پہلے ، دوسرے ، تیسرے عشرے کی دعا کے عنوان سے منقول نہیں۔
 3۔بیشک نماز کی طرف رغبت کا اظہار کرنا بہت پسندیدہ عمل ہے خصوصاً مغرب کی نماز کو اول وقت میں پڑھنا فقہا نے مستحب بتلایا ہے۔ البتہ رمضان المبارک میں افطار کی غرض سے مغرب کی نماز میں کچھ تاخیر کرنے کی گنجائش ہے۔ لہٰذا اس معاملہ میں اعتدال سے کام لیناچاہیے،صرف کھجور کھاکر نماز میں شریک ہونے کی صورت میں اگر دھیان نماز کے بجائے کھانے کی طرف ہو یا آدمی اتنا زیادہ کھانے میں مشغول ہوجائے کہ جماعت فوت ہوجائے ،تو یہ صورتیں اختیار کرنا درست نہیں ، البتہ جلدی مسجد جانے کی صورت میں بھی دھیان نماز ہی کی طرف رہتا ہے تو سوال میں مذکور صورت کو اختیار کرنا بہتر ہے۔اور خواتین بھی اگر یکسوئی کے ساتھ جلد ہی نماز ادا کرسکتی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔البتہ سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ افطاری کی غرض سے پانچ سات منٹ تاخیر کرلی جائے اور اطمینان سے اس وقت میں افطار کرکے نماز میں شریک ہوا جائے۔(2)

1۔قال رحمه الله ( فإن أكل الصائم أو شرب أو جامع ناسيا أو احتلم أو أنزل بنظر أو ادهن أو احتجم۔۔۔ لم يفطر)۔۔۔ وأما الاحتجام فلما روينا ولعدم المنافي وهو قول جمهور العلماء۔۔۔لأن الحجامة ليس فيها إلا إخراج الدم فصارت كالافتصاد والجرح(تبیین الحقائق،کتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده)

معنی قوله أفطر الحاجم والمحجوم أي تعرضا للافطار أما الحاجم فلانة لا يأمن وصول شيء من الدم إلی جوفه عند المص وأما المحجوم فلانة لا يأمن ضعف قوته بخروج الدم فيؤول أمره إلی أن يفطر۔۔۔وقال بن حزم صح حديث أفطر الحاجم والمحجوم بلا ريب لكن وجدنا من حديث أبي سعيد ارخص النبي صلی الله عليه و سلم في الحجامة للصائم وإسناده صحيح فوجب الأخذ به لأن الرخصة إنما تكون بعد العزيمة فدل علی نسخ الفطر بالحجامة سواء كان حاجما أو محجوما (فتح الباری، قوله باب الحجامة والقيء۔۔۔)
 ( قوله : وكذا لا تكره حجامة ) أي الحجامة التي لا تضعفه عن الصوم(ردالمحتار،کتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم)
 2۔والاصح انہ یکرہ الامن عذر کالسفر والکون علی الاکل ونحوہما او یکون التاخیر قلیلاً(حلبی کبیری،ص205،طبع مکتبۃ نعمانیۃ)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر1164 :

لرننگ پورٹل