لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

سوال: السلام علیکم! ایک بندے کے پاس دو لاکھ روپے ہیں اور وہ اس پر کاروبار کر رہا ہےاوراسکے ساتھ وہ آٹھ لاکھ روپے قرض دار ہے آیا اس بندے پر زکوة  فرض ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

آٹھ لاکھ روپے کے قرض دار شخص کے بارے میں یہ بات واضح رہے کہ یہ اس پر آٹھ لاکھ روپے کا قرضہ فی الفور ادا کرنا لازم ہے یا ایک مدت مقررہ تک تھوڑا تھوڑا ادا کرنا ہے۔ اگر پورے آٹھ لاکھ کی ادائیگی ایک ساتھ لازم ہے تو مذکورہ شخص پر زکوۃ لازم نہیں ، لیکن اگر آٹھ لاکھ قرض کی رقم ایک ساتھ ادا نہیں کرنی بلکہ تھوڑی تھوڑی قسط وار ادا کرنی ہے تو جتنی رقم سالانہ ادا کرنا لازم ہے اس کو نکالنے کے بعد اگر مذکورہ شخص صاحب نصاب بنتا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔ اس صورت میں قرض کی پوری رقم کو زکوٰۃ لازم ہونے کے لیے مانع نہیں سمجھا جائے گا۔(1) 

(1).(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلی شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع (الدر المختار وحاشية ابن عابدين(رد المختار)، كتاب الزكوٰة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3461 :

لرننگ پورٹل