لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

سوال: السلام علیکم! زید صاحب نصاب ہے اور ہر سال زکوۃ ادا کرتا ہے۔ حال ہی میں زید نے ایسا پلاٹ فروخت کیا ہے جو مال تجارت میں سے نہ تھا۔ زید کو ایک تہائی رقم مل چکی ہے جبکہ دو تہائی رقم دو سالوں میں اقساط کی صورت میں ادا ہونی ہے۔ غالب گمان ہے کہ  تین سال یا اس سے زائد میں اقساط ادا ہوں گی۔ جو مال ابھی زید کو ملا نہیں لیکن ملنا ہے ، کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

قرض كی رقم اگر قسط وار وصول ہو تو سال پورا ہونے پر جتنی رقم وصول ہوچکی ہے اس کی زکوٰۃ دینا لازم ہے ، اگر وصول شدہ رقم کی زکوٰۃ نہیں دی تو جب مکمل رقم وصول ہو گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینا بھی لازم ہوگا۔ مثلاً مکمل قرض 50,000 روپے ہے اور اس سال 25,000/= وصول ہوا تو اگر اس سال پچیس ہزار کی زکوٰہ نہیں دی تو اگلے سال جب مزید 25,000/= وصول ہوئے تو گذشتہ سال کی بھی پورے پچاس ہزار کی زکوٰۃ دینی ہوگی۔(1)

وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الزكوة، شروط وجوب الزكوة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3462 :

لرننگ پورٹل