لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال: السلام علیکم! میری زرعی زمین تھی ، میں نے اس کو بیچا، کسی وجہ سے مجھے بیچنا پڑا، تو میرے پاس پیسے آئے ، تو گھر میں پیسے پڑے تھے تو میں نے اس سے اسلام آباد میں ایک زمین لے لی ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس زمین پر زکوۃ ہوگی ، اس زمین کے بارے میں میرا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہے ، کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہاں اسلام آباد میں گھر بناؤں گا، کبھی سوچتا ہوں کہ کوئی Business opportunity  آگئی تو اس میں ڈال دوں گا، ابھی میں Sure نہیں ہوں ، تو اس پر زکوۃ ہوگی یا نہیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

چوں کہ مذکورہ زمین کو خریدتے وقت بیچنے کی حتمی نیت نہیں تھی لہٰذا اس زمین پر زکوٰۃ لازم نہیں۔(1)

(1).وَشَرْطِ مُقَارَنَتِهَا لِعَقْدِ التِّجَارَةِ وَهُوَ كَسْبُ الْمَالِ بِالْمَالِ بِعَقْدِ شِرَاءٍ أَوْ إجَارَةٍ أَوْ اسْتِقْرَاضٍ. وَلَوْ نَوَی التِّجَارَةَ بَعْدَ الْعَقْدِ أَوْ اشْتَرَی شَيْئًا لِلْقِنْيَةِ نَاوِيًا أَنَّهُ إنْ وَجَدَ رِبْحًا بَاعَهُ لَا زَكَاةَ عَلَيْهِ. (الدر المختار مع الرد، کتاب الزکاة، 2/ 274، دار الفکر بیروت)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3460 :

لرننگ پورٹل