لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

سوال : السلام علیکم! حدیث میں مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت ایک لاکھ بیان ہوئی ہے۔ یہ فضیلت مسجد الحرام کے ساتھ خاص ہے یا حرم میں کہیں بھی نماز پڑھنے سے یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ». (مسند احمد، مسند جابر بن عبد الله رضي الله عنه) ترجمہ:’’ حضرت جابر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : مسجد حرام کے علاوہ باقی تمام مساجد کی نسبت میری مسجد میں ایک نمازکا ثواب ایک ہزارنمازوں سے افضل ہے اور مسجد حرام ميں نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے ثواب كے برابر ہے‘‘۔

ائمہ احناف ، مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک نمازوں کی یہ فضیلت صرف مسجد حرام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ حدودِ حرم میں کسی بھی نماز پڑھنے سے یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ البتہ مسجد الحرام میں حاضری دینے میں جماعت کی فضیلت کے علاوہ بیت اللہ کو دیکھنے کی فضیلت اور طواف کی توفیق ہوجائے تو یہ اضافی ثواب حاصل کرنے کے باعث ہیں۔

ذهب الحنفية في المشهور والمالكية والشافعية إلی أن المضاعفة تعم جميع حرم مكة، فقد ورد من حديث عطاء بن أبي رباح قال: بينما ابن الزبير يخطبنا إذ قال: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم: صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام، وصلاة في المسجد الحرام تفضل بمائة، قال عطاء فكأنه مائة ألف، قال: قلت يا أبا محمد هذا الفضل الذي يذكر في المسجد الحرام وحده أو في الحرم؟ قال: بل في الحرم، فإن الحرم كله مسجد. وقال ابن مفلح: ظاهر كلامهم في المسجد الحرام أنه نفس المسجد، ومع هذا فالحرم أفضل من الحل، فالصلاة فيه أفضل. الموسوعة الفقهية الكويتية (37/ 239)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3519 :

لرننگ پورٹل