لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سوال:شادی کے بعد اکثر لوگ ایک بچے کے بعد وقفہ ڈال لیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ اور اگر کوئی میاں بیوی باہمی رضا مندی سے یہ فیصلہ کریں کہ انھوں نے شادی کے ایک سال بچہ پیدا نہیں کرنا اور اس کے پیچھے کچھ وجوہات بھی ہوں تو کیا اس میں کوئی قباحت ہے؟ مثال كے طور پر شادی اس لیے کی جارہی ہے کہ گناہوں سے بچا جاسکے حالانکہ شادی کے لیے گھر میں ماحول سازگار نہیں ہے اور نوکری بھی نہیں ہے اور یہ کہ آج  گناہوں کے مواقع بہت زیادہ ہیں؟ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کو زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں فوراً بچے سے بیوی بچے میں طرف زیادہ مشغول ہوجاتی ہے اور یہ کہ میاں بیوی بچے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں۔نیز شوہر ابھی پڑھائی کو جاری رکھنا چاہتا ہے، شادی کے فوراً بعد بچے سے وہ دھیان نہیں دے پائے گا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

نکاح کو شریعت مطہرہ نے عصمت کے ساتھ ساتھ اولاد کے حصول کا ذریعہ اور سبب بھی قرار دیا ہے اور نکاح کے ذریعے اولاد کے حصول کی مستقل ترغیب دلائی گئی ہے۔
 حضورﷺ نے فرمایا:تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ(سنن ابي داود، كتاب النكاح، باب النهي عن تزويج من لم يلد من النساء)ترجمہ:’’ ایسی عورت سے نکاح کرو جو شوہر سے محبت کرنے والی ہو اور خوب بچے جننے والی ہو کیونکہ تمہاری کثرت کی بنا پر ہی میں سابقہ امتوں کے مقابلہ میں فخر کروں گا‘‘۔
 پس شریعت مطہرہ کا مزاج یہی ہے کہ انسان جلدی نکاح کرے اور اس کے بعد اولاد جیسی عظیم نعمت کے حصول کے لیے کوشش بھی کرے اور دعا بھی کرے۔ اس کے برخلاف اولاد کی روک تھام کے لیے جائز طریقوں کو بھی شریعت نے ناپسند فرمایا۔ چناں چہ جب حضورﷺ سے عزل(یعنی مادہ تولید کو رحم سے باہر خارج کرنا) کے بارے میں پوچھا گیا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ(مسلم، كتاب النكاح، باب جواز الغيلة…)یعنی یہ ایک طرح کا اولاد کو زندہ دفن کرنا ہے۔ چناں چہ جب ایک جائز طریقے کو بھی شریعت نے پسند نہیں کیا تو محض پڑھائی وغیرہ کے اعذار کے پیشِ نظر اولاد جیسی عظیم نعمت سے منہ موڑنا بھی اچھا عمل نہیں۔ نیز ان مذکورہ اعذار میں سے نوکری کا نہ ہونا رزق کے خوف کی طرف دلالت کرتا ہے۔ علماء نے خوف رزق کی وجہ سے منصوبہ بندی کو ناجائز لکھا ہے۔ باقی اگر واقعی کوئی شرعی اور بڑا عذر ہومثلاً بیوی بیمار ہویا بار حمل کا تحمل نہ کرسکتی ہو وغیرہ تو عارضی وقفہ کیا جا سکتا ہے۔
 بخاری شریف میں ہے:عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ(بخاری، كتاب النكاح، باب العزل) ترجمہ:’’حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے زمانہ میں عزل کرتے تھے حالانکہ اس وقت قرآن شریف نازل ہورہا تھا‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3493 :

لرننگ پورٹل