لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال:اگر والد کی کمائی بینک کی ہےتو کیا وراثت میں چھوڑی گئی رقم وارثین کے لیے جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

ورثاء کےلیے رقم حلال ہونے کی ایک شرط تو یہ ہے کہ وہ حرام مال رشوت اور غصب کے علاوہ ہو، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ حلال مال الگ سے متعین نہ ہو یعنی یا تو وہ مال دوسرے مال کے ساتھ مخلوط ہو یا پھر اس کے بدلے کوئی نہ کوئی چیز خریدلی گئی ہو۔البتہ دیانت اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اس مال کو بھی استعمال نہ کیا جائے بلکہ صدقہ کردیا جائے۔(1)

. والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه ففي الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة (الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المختار)، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب رد المشتري فاسدا إلي بائعه فلم يقبله)
 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3443 :

لرننگ پورٹل