لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال: کیا تعویذ پہننا شریعت میں جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

احادیث مبارکہ میں مطلقاتعویذ کی ممانعت نہیں بلکہ اس تعویذ کی ممانعت آتی ہے جو کہ شرکیہ الفاظ پر مشتمل ہوں چنانچہ حدیث شریف میں ہے:عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا قَالَ إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا فَبَايَعَهُ وَقَالَ مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ (مسند أحمد، مسند الشامیین، حديث عقبة بن عامر الجهني….) 
 ترجمہ: ’’حضرت عقبہ بن عامرؓ  سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ کی خدمت میں (دس آدمیوں کا) ایک وفد حاضر ہوا، نبی ﷺ نے ان میں سے نو آدمیوں کو بیعت کرلیا اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ! آپ نے نو کو بیعت کرلیا اور اس شخص کو چھوڑ دیا؟ نبیﷺ نے فرمایا اس نے تعویذ پہن رکھا ہے، یہ سن کر اس نے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس تعویذ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور نبی ﷺ نے اس سے بھی بیعت لے لی اور فرمایا جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے وہ شرک کرتا ہے۔ ‘‘
 ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے:عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَی فِي ذَلِكَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَی مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ (مسلم، کتاب السلام، باب لا بأس بالرقی ما لم يكن فيه شرك)
  ترجمہ: ’’حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہﷺ آپ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا تم کلمات دم میرے سامنے پیش کرو اور ایسے دم میں کوئی حرج نہیں جس میں شرک نہ ہو۔‘‘
 لہٰذا تعویذ کا استعمال تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:
 1۔ تعویذ جائز مقصد کے لیے ہو، ناجائز مقصد کے لیے نہ ہو۔
 2۔ اس کے الفاظ کفرو شرک پر مشتمل نہ ہوں اور اگر ایسے الفاظ پر مشتمل ہوں جن کا مفہوم معلوم نہیں تو وہ بھی ناجائز ہے۔ بلکہ اسے آیات قرآنی اور ادعیۂ ماثورہ پر مشتمل ہونا چاہیے۔ (1)
 3۔ ان کو مؤثر بالذات نہ سمجھاجائے۔(2) یہ بات ملحوظ رہے کہ ہر چیز میں مؤثر حقیقی اللہ رب العزت کی ذات ہے تعویذ لٹکاکر بس اس پر اعتماد کرکے بیٹھ جانا اور نماز و دیگر عبادات کو چھوڑدینا درست نہیں۔

(1). إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدری ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به  (ردالمحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس)
 (2). أجمع العلماء علی جواز الرقي عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالی أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالی (فتح الباری، کتاب الطب، باب الرقی) 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3464 :

لرننگ پورٹل