لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

سوال:ہمارے ہاں گاؤں میں جانوروں کی رکھوالی کے لیے کتے کی ضرورت ہے اور شدید ضرورت ہے ، البتہ ایک کالا کتا دستیاب ہورہا ہے ، اور دوسرا کوئی اچھا کتا یہاں مل نہیں رہا اور وہ کالا کتا رکھوالی کے لحاظ سے بہت اچھا ہے ، ظاہر ہے کہ ہم اس کو گھر کے باہر رکھیں گے لیکن کیا اس کے رکھنے میں گنجائش ہے یا نہیں ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

حدیث مبارکہ میں عورت ، گدھے اور کالے کتے کے سامنے آ جانے سے نماز ٹوٹنے کا ذکر ہے اور اس كے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی منقول ہے کہ کالا کتا شیطان ہے۔ بعض علماء نے تو اس حدیث سے اس کے ظاہری معنی ہی مراد لیے ہیں۔ لیکن اکثر علماء نے اس روایت کی تاویل فرمائی ہے۔
 بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد مبالغہ ہے ، مطلب یہ کہ ان چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی تو نہیں لیکن جب بندہ ان میں منہمک ہو جائے تو ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ جیسے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں دوسرے شخص کی بے حد تعریف کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:قطعت عنق صاحبک۔ ترجمہ: ’’تو نے تو اپنے دوست کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے۔‘‘
 یہ قول آنحضرت ﷺ نے مبالغۃً فرمایا۔ یعنی جب اس شخص نے تعریف کی تو  ممکن ہے کہ تعریف سننے والے میں تکبر آجائے اور تکبر اس کو ہلاک کر دے۔ تو جس طرح ہلاکت کے اندیشے کو ہلاکت سے تعبیر کیا گیا ہے اسی طرح اس حدیث میں بھی نماز ٹوٹنے کے اندیشے کو مبالغۃً نماز  ٹوٹنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (اکمال بحوالہ فتح الملہم: ج3 ص692)
 بعض علماء نے اس حدیث کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو اگر نمازی کے آگے سے گزریں تو نماز میں خشوع و خضوع اور حضوری قلب ختم ہو جاتے ہیں ، جو درحقیقت نماز کی اصل روح ہیں۔ کیونکہ شیطان تو دل میں وسوسہ ڈالے گا، اور عورت نمازی کے لیےفتنہ و آزمائش بن جائے گی ، جب کہ گدھا اور کتا اپنی قبیح آواز اور نقصان پہچانے کے خطرے کی وجہ سے نمازی کی توجہ اپنی طرف مبذول کر دیں گے۔ گویا نماز باطل تو نہ ہو گی لیکن اس کا خشوع و خضوع فوت ہو جائے گا۔ (فتح الملہم: ج3 ص692)
  چنانچہ اس سے مراد نمازی کی  توجہ کا ان چیزوں کی طرف مبذول ہو جانا ہے ، کیونکہ مذکورہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ سامنے آ جائیں تو ان کی طرف دل متوجہ ہو  ہی جاتا ہے۔ عورت کی حیثیت تو ظاہر ہے۔ گدھے کا معاملہ بھی یہ ہے کہ گدھے کے ساتھ چونکہ اکثر و بیشتر شیاطین رہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کی آواز سننے کے وقت اعوذ باللہ پڑھنا مستحب ہے۔ اس لیے جب گدھا نمازی کے آگے سے گزرے گا تو نمازی کا دل اس احساس کی بناء پر کہ اس کے ہمراہ شیاطین ہوں گے گدھے کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ ایسے ہی کتے سے تکلیف پہنچنے کا بھی خطرہ رہتا ہے اس لیے اس کے گزرنے کی صورت میں بھی ذہن پوری تیزی کے ساتھ اس کی طرف بھٹک جاتا ہے۔ (فتح الملہم: ج3 ص692 بحوالہ الامام الشعرانی)
 کالے کتے کے بارے میں بعض علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ  اسے شیطان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اکثر و بیشتر کالے کتے ہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ (قوت المغتذی: 1/ 167)
 لہذا چوکیداری وغیرہ کی غرض سے اگر کالے کتے کے علاوہ دوسرا کتا میسر ہو تب تو حدیث مبارکہ کے ظاہری الفاظ پر عمل پیرا ہوکر اس سے احتراز کرنا ہی بہتر ہے۔ لیکن اگر اس کے علاوہ کسی اور رنگ میں کتا دستیاب نہ ہو تو   کالا کتا رکھنا بھی جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اکثر علماء نے اس حدیث کے الفاظ کو صریح معنوں پر محمول نہیں کیا۔(1)

(1).وذكر في المعراج عن النخعي والحسن البصري وغيرهما أنه لا يجوز بالكلب الأسود البهيم، لأنه – عليه الصلاة والسلام – قال «هو شيطان» وأمر بقتله، وما وجب قتله حرم اقتناؤه وتعليمه فلم يبح صيده كغير المعلم. ولنا عموم الآية والأخبار اهـ. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، 6/ 463)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3450 :

لرننگ پورٹل