لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال: اگر کوئی مسلمان مرد ہوش و حواس میں ایک سے زیادہ بار خدا تعالیٰ اور رسالت کا انکار کردے اور دین کو انسانی تخلیق قرار دے دے تو اس صورت میں اس کی بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا نکاح فسخ ہوگیا یا رشتے کو مکمل حرام ہونے کے لیے تین طلاق کہنا بھی ضروری ہوگا؟ اگر وہ مرد توبہ کرکے کلمہ پڑھے تو تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اللہ تعالیٰ  کا یا رسالت کا انکار کرنا یا دین الٰہی کو انسانی تخلیق  کہنا صریح کفر ہے۔ جو شخص ان میں سے کسی بھی قول یا عقیدے کا مرتکب ہو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، ایسے شخص کا نکاح اپنی بیوی سے فوراً ختم ہو گیا۔ طلاق وغیرہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔(1)اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔ اگر ایسے غلیظ خیالات سے رجوع اور اللہ کے حضور سچی توبہ  کی توفیق ہو جائے اور وہ پھر سے مسلمان ہو جائے تب مذکورہ شخص کو اپنی بیوی سے از سرِ نو نکاح کرنا ہوگا، ورنہ وہ اس پر اجنبی عورتوں کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام رہے گی۔

(1). (وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) بلا قضاء. (الدر المحتار مع رد المختار، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3486 :

لرننگ پورٹل