لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

سوال:  محترم اگر حوالہ عنایت فرما دیں تو نوازش ہوگی،جس میں وضاحت ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر کہاں اور کس امام کے پیچھے اور کتنی تراویح کی رکعتیں ادا کی گئیں؟ براہ مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

نمازِ تراویح سے متعلق جمہور علماء کے اقوال:
 نمازِ تراویح جمہور اہلِ سنت کے نزدیک سنتِ موکدہ ہے۔امام نووی ؒ الشافعی فرماتے ہیں:اعلم أن صلاۃ التراویح سنۃ باتفاق العلما ء وھی عشرون رکعۃ (کتاب الاذکار، باب أذکار صلاۃ التراویح) ترجمہ: جان لو بلاشبہ نماز ِ تراویح باتفاق علماء سنت ہے اور یہ نماز بیس رکعات ہے۔
 امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں:وأكثر أهل العلم علی ما روي عن عمر وعلي وغيرهما من أصحاب النبي صلی الله عليه وسلم عشرين ركعة وهو قول الثوري وابن المبارك والشافعي و قال الشافعي وهكذا أدركت ببلدنا بمكة يصلون عشرين ركعة (جامع الترمذی، أبواب الصوم، باب ما جاءفی قیام شہر رمضان) 
 
ترجمہ:اکثر اہل ِ علم کا عمل اس پر ہے جو حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ اور ان کے علاوہ اصحاب نبی ﷺ سے مروی ہے کہ نمازِ تراویح بیس رکعت ہے ۔ امام سفیان ثوریؒ، ابن مبارکؒ اور امام شافعی ؒ کا یہی قول ہے۔ حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’ اسی طرح ہم نے مکہ مکرمہ میں لوگوں کو پایا کہ وہ بیس تراویح پڑھتے ہیں۔
 امام ابن تیمیہ الحنبلی ؒ فرماتے ہیں:فإنه قد ثبت أن أبي بن كعب كان يقوم بالناس عشرين ركعة في قيام رمضان، ويوتر بثلاث.فرأی كثير من العلماء أن ذلك هو السنة ؛ لأنه أقامه بين المهاجرين والأنصار، ولم ينكره منكر(الفتاوی الکبری ، مسألۃ ھل قنوت الصبح دائما) ترجمہ:یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت ابی بن کعبؓ لوگوں(صحابہ ؓ و تابعین ؒ ) کو رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے لہٰذا اکثر علما ء نے اسی کو سنت قرار دیا ہے کیونکہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے بیس رکعتیں حضرات انصار و مہاجرین ؓ کی موجودگی میں پڑھائی تھیں اور کسی نے انکار نہیں کیا۔
 نمازِ تراویح احادیث کی روشنی میں:
 حضور اکرم ﷺ نے نمازِ تراویح صرف تین دن جماعت کے ساتھ پڑھائی۔اس کےبعد اس ڈر سے کہ کہیں یہ مسلمانوں پر فرض نہ کردی جائے جماعت سے پڑھانی ترک کر دی۔
 أن عائشة رضي الله عنها أخبرته أن رسول الله صلی الله عليه وسلم خرج ليلة من جوف الليل فصلی في المسجد وصلی رجال بصلاته فأصبح الناس فتحدثوا فاجتمع أكثر منهم فصلی فصلوا معه فأصبح الناس فتحدثوا فكثر أهل المسجد من الليلة الثالثة فخرج رسول الله صلی الله عليه وسلم فصلی فصلوا بصلاته فلما كانت الليلة الرابعة عجز المسجد عن أهله حتی خرج لصلاة الصبح فلما قضی الفجر أقبل علی الناس فتشهد ثم قال أما بعد فإنه لم يخف علي مكانكم ولكني خشيت أن تفترض عليكم فتعجزوا عنها فتوفي رسول الله صلی الله عليه وسلم والأمر علی ذلك(بخاری، باب فضل من قام رمضان) ترجمہ:حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عائشہؓ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ ایک مرتبہ درمیانِ رات میں گھر سے تشریف لے گئے آپ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی اور آپ ﷺ کے پیچھے لوگوں نے بھی وہی نماز پڑھی جب صبح ہوئی تو لوگوں نے (پچھلی رات کی نماز کا) آپس میں تذکرہ کیا چنانچہ دوسری رات پہلے سے زیادہ تعداد ہوگئی ، پس آپﷺ نے نماز پڑھی اور آپ ﷺ کے ساتھ وہی نماز لوگوں نے بھی پڑھی ، صبح ہوئی تو پھر چرچا ہوا اور تیسری رات لوگوں کی تعداد اور بھی زیادہ بڑھ گئی پس آپﷺ نے نماز پڑھی اور آپﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی وہی نماز پڑھی ، جب چوتھی رات آئی تو مسجد نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے تنگ ہوگئی، اس رات نبی کریم ﷺ فجر کی نماز کے لیے ہی تشریف لائے جب نماز ادا کرلی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا تمہارا یہاں آنا مجھ پر مخفی نہیں تھا لیکن میں ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور تم اس کو ادا کرنے سے عا جز ہو جاؤ ، رسول اللہ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور معاملہ اسی طرح رہا۔
 عن أبي ذر قال صمنا مع رسول الله صلی الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شيئا من الشهر حتی بقي سبع فقام بنا حتی ذهب ثلث الليل فلما كانت السادسة لم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتی ذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة قال فقال إن الرجل إذا صلی مع الإمام حتی ينصرف حسب له قيام ليلة قال فلما كانت الرابعة لم يقم فلما كانت الثالثة جمع أهله ونساءه والناس فقام بنا حتی خشينا أن يفوتنا الفلاح قال قلت وما الفلاح قال السحور ثم لم يقم بقية الشهر (سنن ابی داؤد ، باب فی قیام شھر رمضان) ترجمہ:حضرت ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے ، آپ ﷺ نے پورے مہینے ہمیں رات میں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ سات دن باقی رہ گئے تو  آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی ۔ جب چھ دن رہ گئے تو نماز نہیں پڑھائی پھر جب پانچ دن رہ گئے تو نماز پڑھائی یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ اس رات کے باقی حصے میں بھی ہمیں نفل پڑھا دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ آپ ﷺ نے فر مایا جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز(عشاء) پڑھے پھر اپنے گھر واپس جائے تو پوری رات نماز پڑھنے والا شمار کیا جائے گا ۔ حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں کہ جب چار دن رہ گئے تو آپؐ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی جب تین دن باقی رہ گئے تو آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں، عورتوں اور دیگر لوگوں کو جمع فرمایا اور نماز پڑھائی اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ ہم سے فلاح رہ جائے گی۔ حضرت جبیر بن نفیر ؒ کہتے ہیں میں نے عرض کیا فلاح رہ جانے کا کیا مطلب ہے ۔ حضرت ابو ذر ؓ نے جواب دیا کہ سحری مراد ہے، پھر باقی ایام میں آپﷺ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی۔
 أن ثعلبة بن أبي مالك القرظي حدثه، قال: خرج رسول اللَّهﷺ ذات ليلة في رمضان فرأی ناسا في ناحية المسجد يصلون، فقال: ما يصنع هؤلاء قال قائل: يا رسول اللَّه، هؤلاء ناس ليس معهم قرآن وأبي بن كعب يقرأ وهم معه يصلون بصلاته، قال: قد أحسنوا، وقد أصابوا أو لم يكره ذلك لهم(السنن الکبری للامام البیہقی ، باب من زعم أنھا بالجماعۃ أفضل لمن لا) ترجمہ:حضرت ثعلبہ بن ابی مالک قرظی ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں ایک رات مسجد تشریف لائے تو لوگوں کو مسجد کے ایک کونہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپﷺ نے پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ۔ ایک کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو قرآن یاد نہیں ہے ابی بن کعب ؓ (نماز میں قرآن) پڑھ رہے ہیں اور یہ ان کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انہوں نے اچھا کیا یا یہ فرمایا کہ صحیح کیا اور یہ چیز آپﷺ نے ان کے لیے نا پسند نہیں کی۔
 عن ابن عباس : أن رسول الله صلی الله عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعة والوتر(ابن ابی شیبہ، بیہقی، المعجم الکبیر) ترجمہ: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھا کرتے تھے۔
 اوپر کی احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی صحیح حدیث میں تراویح کی رکعات کا تذکرہ نہیں البتہ ایک روایت میں ان کی تعدا د بیس رکعت آئی ہے اگر چہ یہ روایت ضعیف ہے۔ البتہ صحابہ کرام ؓ ، تابعین عظام ؒ، ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین سے عدد تراویح کا ثبوت ملتا ہے ، جس کی تعداد بیس رکعات یا اس سے زائد ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
 حضرت عمر فاروق ؓکے عہد ِ خلافت میں نمازِ تراویح:
 عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَی لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَی أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَی وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنْ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ) صحیح البخاری، باب فضل من قام رمضان) ترجمہ:عبدالرحمٰن بن عبدا لقاری ؒسے مروی ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات میں مسجد نبوی کی جانب نکلا تو لوگ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے نظر آئے ، کوئی تنہا نماز پڑھ رہا تھا اور کوئی جماعت کے ساتھ پڑھ رہا تھا ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اگر میں ان لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کر دوں تو بہت اچھا ہو، پھر آپ ؓ نے اس کا عزم کر لیا اور  حضرت ابی بن کعب ؓ کی اما مت میں سب کو جمع کر دیا ۔ پھر میں ایک دوسری رات حضرت عمر فاروق ؓ کے ہمراہ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے قاری کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے ہیں ۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا یہ نئی چیز بہت اچھی ہے اور وہ نماز جس سے تم سو جاتے ہو وہ افضل ہے اس نماز سے جو تم پڑھ رہے ہو آپ ؓ کی مراد اس سے رات کے آخری حصے میں قیام کر نا تھا اور لوگ شروع رات میں قیام کرتے تھے۔
 عن يحيی بن سعيد أن عمر بن الخطاب أمر رجلا يصلي بهم عشرين ركعة۔ اسنادہ مرسل قوی(مصنف بن ابی شیبہ ، باب کم یصلی فی رمضان من رکعۃ) ترجمہ:حضرت یحیٰی بن سعید ؒسے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھائے۔
 عن أبي بن كعب أن عمر بن الخطاب أمره أن يصلي بالليل في رمضان فقال: إن الناس يصومون النهار ولا يحسنون أن يقرأوا فلو قرأت عليهم بالليل، فقال: يا أمير المؤمنين هذا شيء لم يكن، فقال: قد علمت ولكنه حسن فصلی بهم عشرين ركعة(کنز العمال ، باب صلوٰۃ التراویح) ترجمہ:حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رمضان میں رات کو لو گوں کو نماز پڑھایا کریں ۔ آپؓ نے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ تو رکھتے ہیں لیکن اچھی طرح قراء ت نہیں کرسکتے اگر تم رات کو ان پر قرآن پڑھو تو اچھا ہو ، حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا کہ امیر المؤمنین پہلے ایسے نہیں ہوا ۔ آپؓ نے جواب دیا مجھے بھی معلوم ہے تاہم یہ ایک اچھی چیز ہے چنانچہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے لوگوں کو بیس رکعات پڑھائیں۔
 عن يزيد بن رومان قال : كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه في رمضان بثلاث وعشرين ركعة(موطا امام مالک، باب ما جا ء فی قیام رمضان) ترجمہ:حضرت یزید بن رومان ؒ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں رمضان میں تئیس رکعات پڑھا کرتے تھے۔
 حضرت علی ؓ کے عہدِ خلافت میں نمازِ تراویح:
 عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علی رضي الله عنه قال : دعا القراء في رمضان فأمر منهم رجلا يصلي بالناس عشرين ركعة قال وكان علي رضي الله عنه يوتر بهم(سنن البیھقی، باب ما روی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان) ترجمہ:حضرت عبدالرحمٰن سلمی ؒ کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے رمضان المبارک میں قراء کو بلایا ، پس ان میں سےایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھائے اور حضرت علی ؓ انہیں وتر پڑھاتے تھے۔
 جمہور صحابہ کرام ؓ سے بیس رکعت تراویح کا ثبوت:
 عن عطاء قال أدركت الناس وهم يصلون ثلاثا وعشرين ركعة بالوتر(ابن ابی شیبہ، باب کم یصلی فی رمضان من رکعۃ) ترجمہ:حضرت عطا ءؒ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں(صحابہ کرام ؓ ) کو وتر سمیت تئیس رکعات پڑھتے ہوئے دیکھا۔
 تابعین و جمہور علماء سے بیس رکعت تراویح کا ثبوت:
  
أنبأ أبو الخصيب قال : كان يؤمنا سويد بن غفله في رمضان فيصلي خمس ترويحات عشرين ركعة(سنن البیھقی، باب ما روی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان) ترجمہ:حضرت ابو الخصیب ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ ؒ رمضان المبارک میں ہماری امامت کرتے تھے پس وہ پانچ ترویحے یعنی بیس رکعات پڑھاتے تھے۔
 عن سعيد بن عبيدأن علي بن ربيعة كان يصلي بهم في رمضان خمس ترويحات ويوتر بثلاث(ابن ابی شیبۃ، باب کم یصلی فی رمضان من رکعۃ) 
 
ترجمہ:حضرت سعید بن ابی عبیدؒ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی ربیعہ ؒرمضان المبارک میں لوگوں کو پانچ ترویحے یعنی بیس رکعات اور تین وتر پڑھاتے تھے۔
 عن نافع بن عمر ، قال : كان ابن أبي مليكة يصلي بنا في رمضان عشرين ركعة(ابن ابی شیبۃ، باب کم یصلی فی رمضان من رکعۃ) ترجمہ:حضرت نافع ؒ مولیٰ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی ملیکہؒ رمضان المبارک میں ہمیں بیس رکعات پڑھایا کرتے تھے۔
  بیس رکعات تراویح پر صحابہ کرام ؓ کا اجماع:
 روی مالك ، عن يزيد بن رومان ، قال : كان الناس يقومون في زمن عمر في رمضان بثلاث وعشرين ركعة .وعن علي ، أنه أمر رجلا يصلي بهم في رمضان عشرين ركعة .وهذا كالإجماع (المغنی لابن قدامۃالحنبلی،باب مسألۃ قیام شھر رمضان عشرون رکعۃ) ترجمہ:حضرت محمد بن قدامہ حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ امام مالک ؒ نے یزید بن رومانؒ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں رمضان المبارک میں لوگ تئیس رکعات پڑھا کرتے تھے اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان المبارک میں بیس رکعات پڑھائے اور یہ اجماع کی مانند ہے۔
 ائمہ اربعہ اور رکعات ِ تراویح:
 حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا مسلک:
 مقدار التراویح عند أصحابنا و الشافعی،ماروی الحسن عن ابی حنیفۃ قال: القیام فی شہر رمضان سنۃ لا ینبغی ترکھا ، یصلی أھل کل مسجد فی مسجدھم کل لیلۃ سوی الوترعشرین رکعۃ، خمس ترویحات بعشر تسلیمات، یسلم فی کل رکعتین(فتاوی قاضی خان، باب التراویح، فصل فی مقدار التراویح) ترجمہ:حضرت امام فخرالدین حسن بن منصور اوزجندی ؒ (المعروف بہ قاضی خان) فرماتے ہیں کہ تراویح کی مقدار ہمارے اصحاب اور امام شافعی ؒ کے نزدیک وہی ہے جو امام حسن بن زیاد ؒ نے امام ابوحنیفہ ؒ سے نقل کی ہے ، امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قیام کرنا (تراویح پڑھنا) سنت(مؤکدہ) ہے اس کا ترک مناسب نہیں، ہر مسجد والے ہر رات وتر کے علاوہ بیس رکعتیں پڑھیں، پانچ ترویحوں اور دس سلام کے ساتھ ہر دو رکعت پر سلام پھیریں۔
 حضرت امام مالک ؒ کا مسلک:
 واختلفوا في المختار من عدد الركعات التي يقوم بها الناس في رمضان : فاختار مالك في أحد قوليه ، وأبو حنيفة ، والشافعي ، وأحمد ، ودواد : القيام بعشرين ركعة سوی الوتر ، وذكر ابن القاسم عن مالك أنه كان يستحسن ستا وثلاثين ركعة والوتر ثلاث(بدایۃ المجتھد ، الباب السادس فی صلاۃ التراویح ) ترجمہ:علامہ ابن ِ رشد مالکی ؒ لکھتے ہیں کہ رکعاتِ تراویح کے مختار عدد کے بارے میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے ۔ امام مالک ؒ نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں ، اورامام ابو حنیفہ ؒ ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور داؤد ظاہریؒ نے وتر کے علاوہ بیس رکعتوں کو اختیار کیا ہے ، اور عبدالرحمٰن بن قاسم ؒ نے امام مالک ؒ سے نقل کیا ہے کہ وہ چھتیس رکعات اور تین وتر کو بہتر سمجھتے تھے۔
 امام مالکؒ چھتیس رکعتیں پڑھتے تھے، یعنی بیس میں سولہ کے اضافہ کے ساتھ۔ اور اضافہ کی وجہ یہ تھی کہ اہل ِمکہ ہر چار رکعت پر خانہ کعبہ کا سات مرتبہ چکر لگایا کرتے تھےاور اہلِ مدینہ ظاہر ہے کہ اس پر قادر نہیں تھے۔ لہٰذا انہوں نے طواف کا بدل یہ نکالا کہ ہر طواف کے عوض چار رکعت مزید پڑھنے لگے تاکہ اہلِ مکہ سے برابری ہوسکے چوں کہ اہلِ مدینہ کے عمل کو امام مالک ؒ نے اختیار کیا تھا ، اس لیے وہ بھی بیس کے ساتھ سولہ رکعتوں کے قائل تھے۔
 ابن قدامہ مقدسی حنبلیؒ لکھتے ہیں:
  إنما فعل هذا أهل المدينة لأنهم أرادوا مساواة أهل مكة ، فإن أهل مكة يطوفون سبعا بين كل ترويحتين ، فجعل أهل المدينة مكان كل سبع أربع ركعات ، وما كان عليه أصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم أولی وأحق أن يتبع (المغنی، الباب مسألۃ قیام شہر رمضان عشرون رکعۃ) ترجمہ:اہلِ مدینہ نے یہ اس لیے کیا تھا تاکہ اہل مکہ کے ساتھ برابری ہو جائے، کیوں کہ اہل مکہ ہر دو ترویحوں کے درمیان سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ لہٰذا اہل مدینہ نے ہر سات طواف کی جگہ چار رکعتیں رکھ دیں ، البتہ جس طریقے پر اصحاب ِ رسولؓ ہیں وہی اولیٰ اور اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
 حضرت امام شافعیؒ اور امام حمد بن حنبلؒ کا مسلک:
 والمختار عند أبي عبد الله ، رحمه الله ، فيها عشرون ركعة .وبهذا قال الثوري ، وأبو حنيفة ، والشافعي .وقال مالك : ستة وثلاثون .وزعم أنه الأمر القديم ، وتعلق بفعل أهل المدينة(المغنی، الباب مسألۃ قیام شہر رمضان عشرون رکعۃ)
 ابنِ قدامہ حنبلی ؒ لکھتے ہیں:
 امام ابو عبد اللہ (احمد بن حنبلؒ ) کے نزدیک تراویح میں بیس رکعتیں مختار و پسندیدہ ہیں، اسی کے قائل ہیں سفیان ثوریؒ، امام ابو حنیفہؒ، اور امام شافعیؒ بھی، اور امام مالکؒ چھتیس رکعات کے قائل ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہی معاملہ قدیم بھی ہے انہوں نے اہلِ مدینہ کے فعل سے استدلال کیاہے۔
 خلاصہ کلام:
 تراویح کی نماز کی نبی اکرم ﷺ نے ترغیب دی اور خود بعض مرتبہ ابتدائے رات سے اخیر رات تک تراویح پڑھتے اور پڑھاتے رہے، ہاں سندِ صحیح سے اس کی تعدادِ رکعت معلوم نہیں لیکن ابن ابی شیبہ اور بیہقی کی روایت سے (جو سندًا اگرچہ ضعیف ہیں) بیس رکعت کا پتہ چلتا ہے اور صحابہ کرام ؓکے عمل سے اس کی تقویت ہو جاتی ہے۔ محدثین اور فقہا ء کے نزدیک اگر کوئی روایت ضعیف ہو لیکن بعد میں اس کو تلقی بالقبول ہوجائے تو وہ بھی قابلِ حجت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ابن عباسؓ کی روایت کو تقویت مل جاتی ہے عمل صحابہ ؓ سے اور وہ ہم اوپر دیکھ آئے کہ وہ عمل بیس رکعات ہی کا تھا۔حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور ِ خلافت میں حضرت ابی بن کعبؓ اور تمیم داری ؒ کو جماعتِ تراویح کے لیے مامور فر مایا اور ان حضرات نے بیس رکعات تراویح پڑھائی جس میں انسانی رائے و قیاس کو دخل نہیں۔ جیسا کہ امام ابو یوسفؒ نے امام ابو حنیفہ ؒ سے تراویح اور اس سلسلہ میں جو حضرت عمر فاروقؓ نے کیا ہے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ؒ نے فرمایا کہ تراویح سنتِ مؤکدہ ہیں اور حضرت عمر فاروق ؓ نے بیس رکعات خود اپنی طرف سےمقرر و متعین نہیں کیں اور نہ ہی وہ کسی بدعت کے ایجاد کرنے والے تھے آپ ؓ نے جو بیس کا حکم دیا ہے اس کی آپؓ کے پاس ضرور کوئی اصل تھی اور ضرور رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم تھا۔ تو گویا حضرت عمر فاروق ؓ کا بیس رکعات پر مامور فرمانا حکماً مرفوع ہواکیوں کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم پر میری سنت لازم ہے اسی طرح میرے صحابہؓ کی سنت بھی تم پر لازم ہے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کے عمل سے کسی صحابی کا اختلاف نہ کرنا اجماع کی دلیل ہےاور امت کا بلا اختلاف اس کو قبول کر نے سے یہ اجماعِ امت بھی قرار پا گیا۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر738 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل